پشین (ڈیلی گرین گوادر) یارو امن کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں سیاسی پارٹیوں کو رہنماؤں نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت اور صدارتی خطاب امن کمیٹی کے سربراہ ستار کاکڑ نے کی جبکہ عمر خان ترین، فضل اشناء، رضا شیداء، محمد عیسیٰ روشان اور عابد اللہ عابد نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ یارو سانحہ کے ملزمان آج بھی ریاست کی گرفت سے آزاد ہیں،21دن سے مسلسل دھرنا جاری ہے اور حکومت اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے کی بجائے عوام کے صبر کا امتحان لے رہی ہے۔بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور حالیہ قتل کے دلخراش واقعے میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ21 دن سے جاری دھرنے کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے صرف یقین دہانیاں کرائی گئیں مگر عملی طور پر کوئی مؤثر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ یارو امن کمیٹی نے پر امن احتجاج جاری رکھا ہے اور اس سلسلے میں پہیہ جام ہڑتال بھی کرچکے ہیں۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن، ڈی آئی جی پولیس اور دیگر حکومت وانتظامیہ کی یقین دہانیوں کے بعد اس احتجاج کو مزید وسیع نہیں کیا گیا لیکن قاتلوں کی تاحال گرفتاری اس حکومت کے لیے سوالیہ نشان ہے جبکہ سوشل میڈیا پر من گھڑت پیغامات انتظامیہ، انٹیلی جنس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز یارو امن کمیٹی کے جاری احتجاجی دھرنے کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور اس ملزمان کی عدم گرفتاری اور شہدا کے خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے احتجاج کو مزید وسیع کرنے کے تجاویز کی بھی حمایت کرتی ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ عبدالرحیم خان یوسفزئی کے فرزند شہریارخان، بھائی ماسٹر نسیم خان یوسفزئی اور ان کی صاحبزادی کی ہلاکتوں میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔
یارو سانحہ کے ملزمان ریاست کی گرفت سے آزاد ہیں،ستار کاکڑ

ٹیگز:
ستار کاکڑ
