کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ سے مربوط تحصیل صدر کمیٹی کا اجلاس تحصیل سیکرٹری نعیم پیر علیزئی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی ڈپٹی چیئرمین عبدالرؤف لالا، صوبائی لیبر سیکرٹری حبیب الرحمن بازئی،صوبائی سیکرٹری برائے پارلیمانی امور حضرت عمر ایڈووکیٹ،ضلع ایگزیکٹیوز وضلع کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔اجلاس کی کارروائی تحصیل سینئر معاون سیکرٹری راحت بازئی نے سرانجام دی۔ اجلاس کا ایجنڈا تحصیل کانفرنس، تنظیمی سیاسی سرگرمیوں کو مزید بڑھانے اور تنظیمی فعالیت رہا۔ جس پر اراکین نے سیر حاصل بحث کی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا۔ اجلاس سے عبدالرؤف لالا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ حالات میں سیاسی جمہوری کارکنوں کے کندھوں پر ذمہ داریاں بڑھ چکی ہے، پارٹی کے محبوب چیئرمین،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے پیش کی گئی تجاویز پر عملدرآمد میں تاخیری حربے، آئین سے انحراف دراصل ملک کو مزید بحرانوں کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت ایک ایسے نازک سیاسی اور سماجی دور سے گزر رہا ہے جہاں جمہوری اقدار، آئینی بالادستی، سیاسی آزادیوں اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اسے سننے، سمجھنے اور آئینی و سیاسی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کی روایت کو مضبوط کیا جاتا ہے۔لیکن یہاں مسلط حکومت سیاسی و جمہوری کارکنوں کو پرامن احتجاج، اجتماع اور اظہارِ رائے سے روکنے کے لیے سیاسی سرگرمیوں پر غیرضروری قدغنیں عائد کرنا،غیر جمہوری طریقے استعمال کرناانتہائی قابل افسوس اور قابل مذمت ہے جبکہ یہ معاشرے میں بے اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ حالانکہ پرامن احتجاج شہریوں کا ایک بنیادی جمہوری حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین یا کارکنوں کو کمزور کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے غیر اخلاقی، غیر قانونی یا اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال وقتی طور پر کسی فریق کو فائدہ پہنچا سکتا ہے لیکن اس کے طویل مدتی اثرات پورے معاشرے اور ریاستی اداروں پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس سے سیاسی تقسیم بڑھتی ہے، اداروں پر اعتماد کم ہوتا ہے، نوجوانوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے اور جمہوری عمل کے بارے میں بددلی جنم لیتی ہے اور سیاسی جمہوری کارکنوں اور عوام کی جذبہ حریت کا خاتمہ کرنیوالوں کو ہوش کے ناخن لینگے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور بدامنی کا پائیدار حل سیاسی اختلاف کو طاقت کے ذریعے دبانا نہیں بلکہ ملک کے متفقہ آئین کی بحالی، قانون کی حکمرانی اور حقیقی جمہوریت کی بحالی سے ممکن ہے۔محمود خان اچکزئی کی دورر اندیش فکر، سیاست، آئین وجمہوریت کے لیے مسلسل جدوجہد تمام سیاسی جمہوری کارکنوں اور عوام کے لیے باعث فخرہے۔اور پشتونخوامیپ کے یہ قومی سیاسی جمہوری جدوجہد اپنے پارٹی کے بانی اور عظیم لیڈر خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے دور سے کرتی چلی آرہی ہے اور اس راہ میں خان شہید کو تقریباً33سال قید وبند کی سزائیں دی گئی، خان شہید اور دیگر پارٹی کارکنوں کو جمہوری جدوجہد کی پاداش میں شہید کیا گیا۔ اور آج بھی پارٹی اپنی اصولی جمہوری موقف اور جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نجات دلانے کے لیے ایک میز پر بیٹھ کر سنجیدگی کے ساتھ پاکستان کی تشکیل نو کرنا ہوگی اور جن نکات کی نشاندہی پارٹی کے محبوب چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کی ہے ان پر بلاتاخیر عملدرآمد کیا جائے۔
آئین سے انحراف ملک کو بحرانوں کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے، عبدالرؤف لالا

ٹیگز:
عبدالرؤف لالا
