کوئٹہ (گرین گوادرنیوز) جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی و خادم واشک حاجی میرزابد علی ریکی نے حکومت کی طرف سے اپوزیشن کے اراکین صوبائی اسمبلی کے خلاف بجٹ اجلاس کے دوران توڑ پھوڑ کی ایف آئی آر کے خاتمے کے نوٹیفیکیشن کو سانپ کا سر زندہ اور صرف دم کاٹنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی نمائندگان گزشتہ بارہ دنوں سے جیل میں بیٹھے ہیں مگر وزیر اعلی بلوچستان گیم کھیل کر سیاسی قلابازیاں لینے میں مصروف ایوزیشن اراکین کو دھوکہ دیکر عوام کے نظروں کے سامنے دھول جھونک رہے ہیں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے گزشتہ روز اراکین صوبائی اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر کے خاتمے کی رولنگ دی مگر وزیر اعلی نے اسپیکر کے رولنگ کو ہوا میں اڑہ دی ہے حاجی میر ذابد علی ریکی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپوزیشن اراکین اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر کو مکمل ختم نہیں کی ہے بلکہ صرف ایک سو انسھٹ کے تحت ایک ایسا نوٹیفیکیشن کی ہے جس سے ایف آئی آر مکمل ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ وقتی طور پر موقع کو ٹال دی گئی ہے انھوں نے کہا کہ حکومت ایف آئی آر کو مکمل ختم کرے یا ہمارے خلاف ایف آئی آر کو چالان کرکے ہمیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کی جائے حاجی میر ذابد علی ریکی نے کہا کہ صوبائی حکومت کا میڈیا نمائندگان پر تھانہ میں کوریج پر پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلی میڈیا نمائندگان پر پابندی کے بجائے اپنے بوکھلاہٹ کا خاتمہ کرکے ایف آئی آر ختم کرے بہ صورت دیگر حکومت کی کوئی دھوکہ دہی قبول نہیں بلکہ اپوزیشن اراکین کے مزید ایام جیل میں ہی گزرینگے حاجی میر ذابد علی ریکی نے کہا کہ وزیر اعلی کے نئے جال کے تحت پرانے کھیل سے واقف ہیں اپوزیشن اراکین اسمبلی کا صلاع مشورہ جاری ہے جلد ایک منظم لائحہ دینگے اب بھی وقت ہے کہ عوامی نمائندگان کے خلاف انتقامی کاروائیاں روک کر اراکین کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کا مکمل خاتمہ کی جائے بہ صورت دیگر اب ایوزیشن کے کارکن اور دیگر قائدین روڈوں پر ہونگے وزیر اعلی کو جو بھی غلط مشورہ دے رہا ہے وہ مشورے انکے لیئے محضر صحت ہیں۔
اپوزیشن ارا کین کے خلاف جھوٹی ایف آ ئی آ ر کا مکمل خا تمہ کی جا ئے، میرزا بد ریکی

