ژوب(ڈیلی گرین گوادر)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام ژوب کے مختلف علاقوں میں شمولیتی و عوامی اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں کوشک غر عبدالرحیم زئی کے شمولیتی پروگرام سیپارٹی چیئرمین رْکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ، سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، نجیب کبزئی، حسین کبزئی، حاجی بازک، اللہ داد آدم زئی، ملک صاحب خان، شیخ ثناء الدین اور صمد افغان نے خطاب کیا اور 100 سے زائد افراد نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، جبکہ پارٹی کی علاقائی مینہ دانہ عبداللہ زئی کے زیرِ نگرانی منعقدہ عوامی اجتماع سے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، ظاہر شاہ پخیزئی اور علاقائی سیکریٹری خدائے رحمت، تورہ خولہ مسجد کے اجتماع سے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمدرضا اور علاقائی معاون خدائی دوست کبزئی نے خطاب کیا۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے ڑوب کے غیور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قومی اسمبلی میں نمائندگی ژوب، شیرانی اور قلعہ سیف اللہ کے عوام کی تاریخی اور بھرپور حمایت کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے حالانکہ دو سال تک ہماری نمائندگی کو مختلف حربوں کے ذریعے روکے رکھا گیالیکن پارٹی رہنماؤں، کارکنوں کی انتھک جدوجہد، وکلاء کی انتھک محنت کے باعث کامیابی ممکن ہوئی اور ہمارا یہ عوامی دورہ انہیں مشکلات کے باعث تاخیر سے اب شروع ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر فورم پر اپنے غیور عوام کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے آپ کے تمام مسائل ہر فورم پر اْٹھائینگے اور انہیں حل کرنے کی بھرپور کوشش کرینگے لیکن ملک کے موجودہ حالات میں جو حکمران اقتدار پر قابض ہے وہ عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں لیکن ہم آپ کے ووٹ کی طاقت سے ملک کے محکوم اقوام اور مظلوم عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے جدوجہد کو مزید آگے بڑھائینگے۔ انہوں نے کہا کہ پورے پشتونخوا وطن سوات سے لیکر کوئٹہ تک مصنوعی دہشتگردی مسلط کرکے بدامنی اور لاقانونیت کے باعث تمام عوام کو اپنے سرومال کے تحفظ کا سنگین مسئلہ درپیش ہے ا ور لوگ بنیادی مسائل کے حل کی بجائے امن وامان قائم کرنے کے مطالبات کررہے ہیں اور امن وامان کے ایسے واقعات ڑوب اور شیرانی میں بھی وقوع پزید ہوئے ہیں اور اس مصنوعی دہشتگردی کے باعث سابق فاٹا میں (وزیرستان سمیت) مختلف علاقوں میں پشتون عوام کو اذیت ناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں مساجد، سکول، مکان، ڈاکٹرز، دانشور، ملکان، خواتین تک محفوظ نہیں بلکہ ہمارے سکول کے بچوں تک کو شہید کیا گیا اور یہ صورتحال اور حالات مزید قابل برداشت نہیں اور اگر یہی ریاستی پالیسی چلتی رہی تو آپ سب کو اپنے علاقوں سے بے دخل کر دیا جائیگا جس طرح سوات سے لیکر وزیرستان تک کے پشتونوں کو اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل کیا گیا اور اس بدامنی اور لاقانونیت کی وجہ ہمارے اور آپ کے معدنی وسائل ہے اور ان وسائل پر قبضہ کرنے اور انہیں لوٹنے کیلئے استعماری ریاست جنگ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں حالانکہ وسائل کی موجودگی اور اْن کی آمدن کی وجہ سے ہماری قوم کو ترقی اور خوشحال کی راہ پر گامزن کیا جاتا لیکن ہمارے وسائل ہمارے لئے درد سر بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون غیور ملت نے ان تلخ حالات کا ادراک کرتے ہوئے قومی اتحاد و اتفاق کی راہ اپنانی ہوگی اور اپنے وطن اور وسائل کے تحفظ کیلئے پشتون قومی سیاسی تحریک کا حصہ بنتے ہوئے ہر قسم کی قربانی دینی ہوگی ورنہ ہمیں اپنے آبائی وطن سے نکالنے اور دربدر کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائیگاپشتون غیور عوام کی ماضی اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی وطن اور ملت پر برا وقت آیا تو تمام ملت نے ہر قسم کے اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد و اتفاق اور قومی ایجنڈے کے تحت اپنے وطن، اپنے وسائل اور اپنے سرومال وعزت کی حفاظت کو ممکن بنایا لہذ ا پشتونخوانیپ مصنوعی دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کے سرومال و عزت کے تحفظ کی خاطر جدوجہد مزید تیز کریگی اور تمام عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہر قسم کے سیاسی، قبائلی، علاقائی، تنظیمی اختلافات سے بالاتر ہوکر متحد ومنظم ہواور بحیثیت ایک قوم کے قومی حقوق و اختیارات کے حصول اور مسلط مصنوعی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ آواز بلند کریں۔انہوں نے کہا کہ بزرگوں اور جوانوں کی پارٹی میں شمولیت قابل تحسین اور اس تاریخی جدوجہد کیلئے تقویت کا باعث ہے ہمارے غیور عوام پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی سے جو اْمیدیں رکھ رہے ہیں پارٹی اْن کی قیادت اور کارکن اپنے غیور عوام کی اْمیدوں پر ہر حالت میں پورا اْترینگے اور ہر قسم کے گھمبیر حالات اور مشکلات کے باوجود اپنے قوم کے قومی حقوق و اختیارات کے حصول اور اْن کے سرومال و عزت کے تحفظ پر کسی صورت سودا بازی نہیں کرینگے۔
پشتون غیور ملت نے تلخ حالات کا ادراک کرتے ہوئے قومی اتحاد و اتفاق کی راہ اپنانی ہوگی،خوشحال خان کاکڑ

ٹیگز:
خوشحال خان کاکڑ
