کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کوئٹہ کے نواحی علاقے غبرگ کے کلی غیبزئی اور کلی عبدالزئی میں گزشتہ روز دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان فائرنگ، آپریشن کے نام پر پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال، کئی گھنٹوں تک پوری آبادی کو گھروں میں محصور رکھنے اور مقامی نوجوان نوید زمان کے شدید زخمی ہونے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو دہشت گردی اور بدامنی سے نجات دلانے کے بجائے اگر انہیں فائرنگ، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے تو یہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔پارٹی نے کہا کہ غبرگ کا واقعہ کسی الگ تھلگ واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ بوستان مین ھای وے روڈ تا زیارت کراس، چوکل، قلعہ بوستان اور غڑگئ کراس سمیت ملحقہ علاقوں میں جاری بدامنی اور مسلح افراد کی آزادانہ نقل و حرکت بھی اسی مجموعی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ بوستان سے زیارت کراس تک آئے روز مسلح افراد سڑکوں اور آبادیوں کے قریب دندناتے پھرتے ہیں، مقامی لوگوں کو خوف زدہ کرتے ہیں اور عوام خود کو اپنے ہی علاقوں میں غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ غبرگ کے قلعہ غیبزئی اور قلعہ عبدالزئی میں فائرنگ کے دوران عام شہریوں کو گھنٹوں گھروں میں محصور رکھنا اور دوسری جانب بوستان تا زیارت کراس مسلح افراد کی موجودگی کا تسلسل اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومت امن و امان کی صورتحال کا محض وقتی بنیادوں پر نہیں بلکہ مجموعی طور پر جائزہ لے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے گھروں، بازاروں اور شاہراہوں پر بلاخوف زندگی گزار سکیں۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ پارٹی ہر قسم کی دہشت گردی، مسلح کارروائی، قتل و قتال، اغوا، فائرنگ اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی ہمیشہ مذمت کرتی رہی ہے۔ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے، تاہم کسی بھی کارروائی کے دوران عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، ان کی عزت اور بنیادی حقوق بھی ہر صورت ملحوظ رکھے جانے چاہئیں۔پارٹی نے کہا کہ بوستان کے چوکل، بوستان مین ھای تا غڑگئی کراس اور دیگر ملحقہ علاقوں میں اگر مسلح افراد بلاخوف و خطر نقل و حرکت کر رہے ہیں تو حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ عوام کو مسلسل خوف میں رکھنا اور انہیں یہ احساس دلانا کہ ان کے علاقوں میں ریاستی قانون کے بجائے مسلح عناصر کی مرضی چل رہی ہے، کسی صورت قابل قبول صورتحال نہیں۔بیان میں کہا گیا کہ پورا پشتونخوا وطن اور بلوچ علاقے طویل عرصے سے بدامنی، دہشت گردی، قتل و قتال، اغوا اور مسلح تصادم کی لپیٹ میں ہیں۔ زیارت، ہنہ اوڑک، پشین، سرانان، قلعہ عبداللہ، پنجپائی، بوستان، غبرگ، ہرنائی اور کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں مسلسل پیش آنے والے دھشت گردانہ واقعات نے عوام کے اندر شدید خوف اور عدم تحفظ پیدا کر دیا ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کی ذمہ داری صرف کاروای کرنا نہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عوام کو تحفظ فراہم کرنا، قانون کی بالادستی قائم کرنا اور مسلح عناصر کی آزادانہ نقل و حرکت کا خاتمہ کرنا بھی ہے۔ کسی بھی علاقے کی پوری آبادی کو گھنٹوں گھروں میں محصور رکھنا اور معمولات زندگی معطل کرنا مستقل امن کا متبادل نہیں ہو سکتا۔پارٹی نے مطالبہ کیا کہ غبرگ کے قلعہ غیبزئی اور قلعہ عبدالزئی میں پیش آنے والے واقعے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، زخمی نوجوان نوید زمان کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، شہری آبادی کو پہنچنے والے نقصانات اور مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غبرگ سے بوستان، بوستان روڈ تا زیارت کراس، چوکل، قلعہ بوستان، غڑ گئ کراس، پنجپائی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے اور مسلح افراد کی آزادانہ نقل و حرکت کو روکا جائے۔بیان میں کہا گیا کہ پشتونخوا وطن کے عوام مزید خوف، دہشت، بدامنی، اغوا، قتل و قتال اور مسلح تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ عوام کو امن، تحفظ، آزادانہ نقل و حرکت اور باعزت زندگی کا بنیادی حق حاصل ہے، اور حکومت و ریاستی اداروں پر لازم ہے کہ وہ اس حق کو عملی طور پر یقینی بنائیں۔
اغبرگ کے قلعہ غیبزئی اور قلعہ عبدالزئی میں پیش آنے والے واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

