کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان کے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ۔ پیر کو سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میرلشکری خان رئیسانی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بلوچستان کی معدنیات کا کنٹر ول حاصل کرنے کا قانون ہے اس قانون کے تحت اسلام آباد میں دفترقائم کیا گیا ہے جس کے ذریعے غیر مقامی افراد کو بلوچستان کی زمینیں الاٹ کی جائیں گی ۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے کوئی بھی ایسا قانون جو آئین سے متصادم ہو اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے ۔ درخواست دائر کرنے کے بعد نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ کی کوئی حیثیت نہیں،اسے ڈمی حکومت نے بنایاہے ہم اور بلوچستان کے عوام اس ایکٹ کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایکٹ ہماری آئندہ نسلوں کا سودا ہوا ہے،ہم اس قانون کو نہیں مانتے اسی قانون کے تحت 17 نئی الاٹمنٹس کی گئیں،غیرمقامی لوگوں کولاکھوں ایکڑ الاٹ کی گئی، بلوچستان مائنز اینڈ منرل ایکٹ ڈاکہ زنی کا قانون ہے،تمام سماجی ایکٹیوسٹ،مقامی افراد اورسیاسی جماعتیں اس ایکٹ کے خلاف آواز بلند کریں۔ اس موقع پر وائس چیئرمین بلوچستان بارکونسل و رہنمانیشنل پارٹی راحب بلیدی نے کہا کہ نیشنل پارٹی مائنزاینڈمنرلزایکٹ کوعدالت میں چیلنج کرنے جارہی ہے۔نیشنل پارٹی کے سربراہ آج ہائی کورٹ میں آکر پٹیشن دائر کریں گے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو پاس کرکے بلوچستان کے ساتھ سازش کی گئی آج کی پٹیشن بلوچستان ہائی کورٹ اور ججز کے لئے بھی ایک چیلنج ہے اس ایکٹ کے تحت بلوچستان کے مختلف اضلاع کی زمینوں کوالاٹ کیا گیابلوچستان کے وکلاء ،سول سوسائٹی اورسیاسی جماعتوں کواس ایکٹ کیخلاف آوازبلند کرناچاہئے۔
بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج

