کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) کیونکہ غربت پسماندگی بیروزگاری بیماریوں اور تعلیم کے ناپید سہولیات سے لڑھتے چمن کے یہ مزدور عوام اپنے بچوں کے لئے ریاست سے آسان سہل اور سستے نظام کاروبار کا مطالبہ کررہے ہیں انکے جائز حل میں دیر پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہرگز نہیں۔،جس بارڈر پر ایک باپ کے دو بیٹے بیٹیوں کے گھر خوشی غم بازار زرعی زمینیں رشتداریاں حتکہ کے قبرستان دوطرفہ ہوں اس بارڈر پر معاشی سرگرمیوں جام کرنے سے پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ معیشت انسانی ہمدردی کے معیار اور خارجہ کامیابیوں کو زیادہ نقصان ہوگا۔ افغان حکومت کو اعتماد اور لغڑی اتحاد سے مشاورت کرکے مزدوروں کی ترجیحی ضروریات بہتر روگار و کاروبار معاشی پیکج سوشل سکیورٹی اور سؤیپ کارڈ جیسی آسان سہولیات فراہم کی جائیں اسطرح باڈر کے دونوں اطراف خاندانوں سے مشاورت کرکے تعلیم صحت اور دیگر بنیادی انسانی حقوق و ضروریات کے لئے مشترک حل نکال کر اپنے بچوں اور عوام کا دل جتنے کی ہر ممکن کوششیں ہونی چاہیئے۔ نگران حکومت کی عجلت بے وقت غیر منصوبہ بندی اور سیاسی قیادت کے مشاورت کے بغیر افغان مہاجرین کی یکدم بیدخلی اور پھر بارڈر کے دونوں اطراف افغان پشتنون پاکستانیوں پر روزگار اور معاشرتی میل جول پر قدغن کمزور معیشت کے حامل پاکستان کے مستقل اور فروری کی نئی منتخب حکومت کے لے مزید خارجی پریشانیوں اور شدید مشکلات کا سبب بنے گا۔ وسطی ایشیائی ممالک کے گیٹ وے چمن کو عدم استحکام میں ڈال کر دراصل ہم سی پیک کی کامیابی میں رکاوٹیں ڈال کر مزید مشکلات پیدا کررہے ہیں افغانستان جلد ایک معاشی قوت کے طور پر خطے میں سامنے آسکتا ہے اور ہم ریفارمز کے نام کمزور خارجہ و ناپید وسیع النظری کا ثبوت دے رہے ہیں۔ خطئی دہشتگردوں کے خلاف اقدامات دو طرفہ مظبوط خارجی معاشی سیاسی اور بہتر علاقائی معائدہوں کے ذریعے ممکن ہیں اسطرح نہیں کہ اپنی مشکلات ہمسایہ ملک پر ڈال کر پاکستان کو کوئی سیاسی معاشی یا ڈپلومیٹک کامیابی مل سکے گی۔ نگران حکومت اپنے مینڈیٹ سے تجاوز اور ہٹ کر عجلت میں کئی ایسے اقدامات کرچکی ہے جس سے ملک میں انتخابات کے انعقاد میں مشکلات پیش آسکتی ہیں جو نا صرف متوقع منتخب حکومت آنے سے روکنے کی ایک غیر آئینی کوشش ہوگی بلکہ پاکستان مزید سیاسی و معاشی عدم استحکام کا نشانہ بن سکتا ہے۔
چمن دھرنے کے شرکاء کے جائز و آئینی مطالبات جل از جلد تسلیم کئے جائیں،ثناء درانی

ٹیگز:
ثناء درانی
