کوئٹہ:پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ اورپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نائب صدر محترم محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ زبان کسی انسان کی خواہش پر نہیں بنتی بلکہ ہر انسان کو زبان خداکا دیا ہواہوتا ہے، قرآن کریم کی سورت روم کی آیت نمبر 22اور سورت ابراہیم کی آیت نمبر 4میں زبان کی اہمیت بیان کی گئی ہے، ہمارے ملک کے حکمران قوموں کے مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے سے مسلسل انکاری ہے لیکن آخر کار انہیں اس مطالبے کو تسلیم کرنا پڑیگا،مادری زبان زندگی کے ہر قسم کی ترقی اور علوم کے حصول کا دروازہ ہے، بلوچ مائیں اور بہنیں اسلام آباد کے سڑکوں پر اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں جو قابل برداشت نہیں، وزیرستان میں قبائل کی آپس میں مورچہ بندی پر حکومت کی مجرمانہ خاموشی کا مقصد انہیں آپس میں لڑانا ہے،ملک کو بچانے اور چلانے کا واحد راستہ رضاکارانہ بنیادوں پرقائم فیڈریشن، حقیقی جمہوریت، شفاف انتخابات، پارلیمنٹ کی بالادستی اور ملک کی خارجہ وداخلہ تمام پالیسیاں پارلیمنٹ سے تشکیل ہو، گرینڈ ڈائیلاگ کے نام پر گول میز کانفرنس قابل قبول ہے لیکن اس سے پہلے اسمبلیاں تحلیل کی جائے،پی ڈی ایم کی تحریک ملک کو ہر قسم کے بحرانوں سے نجات کی تحریک ہے، کسی کو یہاں خانہ جنگی کرنے نہیں دینگے، مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اور غریب عوام کی قوت خرید ختم ہوچکی ہے،پشتونخوامیپ ہر قوم کے مذہب، زبان، ثقافت کا احترام کرتی ہے،پشتو زبان کی ترقی وترویج اور اس کے فروغ کیلئے ہر سطح پر مزید اقدامات کی ضرورت ہے، بنگالی طلباء کی قربانیوں کی بدولت 21فروری کے دن کو مادری زبانوں کے عالمی دن کی حیثیت سے حاصل ہوئی ہے، ہند کی تقسیم کے بعد بدقسمتی سے غیر سیاسی لوگ اس ملک کے خودمختار بنے، ملک کے اقوام کی زبان وثقافت سے انکار اور ان کے وسائل پر ان کے حق ملکیت کو تسلیم نہ کرنا ملک کو مزید تباہی کی جانب دھکیلنے کے متراف ہوگا، تمام اقوام کے وسائل پر انہیں اختیار اور آئینی طور پر ضمانت دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے سبزہ زار پر منعقد ہ بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس سے پشتونخوامیپ کے مرکزی وصوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال،پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن وسابق رکن صوبائی اسمبلی ولیم جان برکت، سابق ایم پی اے عارفہ صدیق، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر اقبال کاسی ایڈووکیٹ، سیکرٹری جنرل علی حسن بگٹی، AVTخیبر نیوز کے بیورچیف جابر شاہ، مرکزی انجمن تاجران کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ جلسے کی قراردادیں پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان نے پیش کیں اور سٹیج سیکرٹری کے فرائض پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ورکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے نے سرانجام دیا اور تلاوت کلام پاک کی سعادت حافظ شیر علی نے حاصل کی۔ محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبانوں کا یہ دن اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی جانب سے تمام دنیا میں منایا جارہا ہے اُردو کو قومی زبان کے طور پر اعلان کرنے کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلباء نے بنگالی زبان کو قومی زبان درجہ دینے کا مطالبہ کیا بنگالی قومی زبان کے مطالبے کے احتجاج پر ان پر گولیاں چلائی گئی جس میں طلباء کی شہادت ہوئیں اور اقوام متحدہ نے اس کا نوٹس لیا اور آج یہ دن تمام دنیا میں عالمی مادری زبان کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اور یہ اُس وقت کے ہمارے ملک کے حکمرانوں کی غلط فیصلے کے باعث یہ واقعہ رونماء ہوا جب ملک کے اقوام کی مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے سے انکار کیا گیا اور اردو زبان کو مسلط کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہند کی تقسیم کے بعد قائداعظم محمدعلی جناح اور اُس وقت کی قیادت کو اس بات پر مطمئن کیا گیا کہ ہند کی تقسیم کے مخالف سیاسی جمہوری قیادت اور قوتوں کو ملک چلانے میں حصہ نہ دیا جائے اس کے برعکس ہندوستان میں اقتدار وہاں کے حقیقی سیاسی جمہوری قوتوں کے ہاتھوں میں آگئی اور انہوں نے اپنے ملک کو جمہوری راستے پر گامزن کیا۔ جبکہ ہمارے ملک میں روز اول سے اقتدار غیر سیاسی اور غیر جمہوری لوگوں کو دی گئی اور اس ملک کو آئینی اور جمہوری راستے پر چلنے نہیں دیا گیا۔ اور فوج،عدلیہ اور بیوروکریسی کے ایک صوبے سے تعلق کی بنیاد پر ایسے غیر جمہوری فیصلے مسلط کیئے گئے جس سے بحرانوں کی بنیاد پڑگئی اور اسی طرح اردوکو قومی زبان کا درجہ دلانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی انسان اپنی زبان خود نہیں لیتا بلکہ زبان خدا کا دیا ہواتخلیق ہوتا ہے اور ہمارے حکمران طبقے خدا کے حکم ماننے سے بھی انکار ی رہے ہیں جبکہ قرآن شریف کی مختلف آیتوں میں زبان کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ خدانے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ سے کہا کہ میں نے قرآن کریم کو انتہائی سادہ آسان اور آپ کے قوم کی زبان میں بھیجا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اقوام کی مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینا اشد ضروری ہے تمام دنیا اس بات پر متفق ہے کہ ہر قسم کی ترقی اور علوم کا حصول کا بہترین اور واحد ذریعہ مادری زبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران کہتے ہیں کہ بلوچ جنگ کررہے ہیں میں حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ بلوچ کے ساحل وسائل پر ان کا حق تسلیم کرکے ان کو آئینی ضمانت دی جائے تو میں بلوچوں کی جانب سے جنگ نہ کرنے کی ضمانت دیتا ہوں۔ آج بلوچ مائیں اور بہنیں اسلام آبادکی سڑکوں پر اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگردا ں ہیں جو نا قابل برداشت ہے۔ پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی وطن پر اور ان کے وسائل پر ان اقوام کے اختیارکو تسلیم کرنا ضروری ہے اس طرح ملک بہترین ملک بن سکتا ہے اور اس ملک کے بچانے اور چلانے کا واحد راستہ ملک میں قوموں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن، ملک میں حقیقی وفاقی پارلیمانی نظام، شفاف انتخابات، پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین وقانون کی حکمرانی کو قائم کرتے ہوئے ملک کے ہر ادارے کو آئین کے دائرہ کار میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینی ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک ایک جمہوری تحریک ہے جو ملک کو ہر قسم کے بحرانوں سے نجات دلائیگی اور ملک کو اس بدترین صورتحال سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کریگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ملک کی آزادی اور ترقی وخوشحالی کیلئے ہر ظالم سے مقابلہ کیا ہے اور یہ ملک ہمیں عزیز ہے۔ ملک کا آئین ایک عمرانی معاہدہ اورملک کی سب سے اہم دستاویز ہے۔ لہٰذا ملک کے اقوام وعوام کے روشن مستقبل کا راستہ یہی ہے کہ آئین کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے اقوام متحدہ کے بننے کے وقت آزاد ممالک کی تعداد صرف تقریباً 60کے قریب تھیں اور اب آزاد ممالک کی تعداد تقریباً192ہوچکی ہیں اور اس دوران ہمارا اپنا ملک بھی ٹوٹ چکا ہے لہٰذا ہمیں برسرزمین حقائق کو تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اور لاچار غریب عوام بھوک وافلاس کے باعث بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ ہر قسم کے اشیاء خودونوش کے سامان سے بازار بھرے پڑے ہیں اورعوام کی قوت خرید ختم ہوچکی ہے۔ملک میں غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات ضروری ہے ورنہ اس غریب عوام کی احتجاج کی لہر ہر چیز کو بھسم کرکے رکھ دیگی اور اس سنگین صورتحال میں سینٹ کے انتخابات میں کروڑوں روپے خرچ ہونے کے دعوے پر حکمرانوں کو شرمسار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ جو بکتا ہے وہ وفادار ہے اورجو نہیں بکتا وہ غدار ہے ہم اس روش پر افسوس ہی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حاضر سروس بریگیڈیئر کہتا رہا کہ میں نے بلوچستان کی حکومت گرائی ہے لیکن کسی ادارے نے اس کی جواب طلبی تک نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا اسٹیبلشمنٹ سمیت ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر ذمہ داریاں سرانجام دینی ہونگی اور ملک کو حقیقی جمہوریت کے راستے پر چلنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ گرینڈ ڈائیلاگ کی بات صحیح ہے گرینڈ ڈائیلاگ سے قبل موجودہ اسمبلیاں تحلیل کردی جائے گرینڈ ڈائیلاگ میں ملک کی سیاسی جمہوری قوتیں، ججز، فوجی جرنیل، میڈیا پرسن، وکلاء اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر ملک کے مسائل کا حل نکالا جائے اور اس کے بعد صاف شفاف غیر جانبدرانہ انتخابات ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان میں گزشتہ چند روز سے ہزاروں لوگ مورچہ زن ہے لیکن حکومت کی مجرمانہ خاموشی کا مقصد ہمارے عوام کو آپس میں لڑانا ہے اور ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے مثبت کردار ادا نہ کرنے کا مقصد خانہ جنگی کرانا ہے جس کی ہم کسی صورت اجازت نہیں دینگے اور اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو پھر سب کچھ خود سنبھال لینگے۔ جس طرح گزشتہ روز نواں کلی میں جو سانحہ ہوا ایسے واقعات قابل مذمت اور قابل گرفت ہے۔ انہوں نے وسطی پشتونخوا (فاٹا) کے دیگر قبائلی اکابرین سے اپیل کی کہ وہ وزیرستان میں مورچہ زن قبائل کے درمیان صلح کرنے کیلئے جلد سے جلد وفود بھیجیں اور اپنا قومی فرض ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع پشین میں ضمنی انتخابات کے موقع پر پارٹی کے مقامی رہنماؤں کارکنوں اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے اپنے وعدے کو عملی طور پر ثابت کرکے عوام اور اتحادیوں میں اپنے پارٹی کے اعتماد کو مزید تقویت دی اور جمہوریت دوستی اور وطن دوستی کی خاطر اتحاد واتفاق کی راہ کو مزید مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد لانگ مارچ میں شرکت رواں جمہوری تحریک کو مزیدتقویت دیگی۔
بلوچ کے ساحل وسائل پر ان کا حق تسلیم کیا جائے تو میں ان کی ضمانت دیتا ہوں،محمود خان اچکزئی

ٹیگز:
محمود خان اچکزئی
