کوئٹہ:نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر محمد شہی نے سماجی رابطے کے ویب سایٹ (ایکس) پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلاشبہ گوادر صدیوں سے بلوچوں کے آباواجداد کی ملکیت رہا ہے اور بلوچوں نے ہی پرتگیزی سمیت ہر سامراجی اور توسیع پسند طاقت کیخلاف مزاحمت کرکے اپنی ملکیت کا دفاع کیا ہے۔ گوادر جب عمان کے زیرانتظام تھا تب بھی بلوچوں کی ہی ملکیت تھا۔ 1958 میں حکومت پاکستان نے بھی بلوچوں کی ملکیت اور ریاست قلات کی حاکمیت کے تاریخی دعوے کی بنیاد پر ہی گوادر کو واپس حاصل کیا۔ لہذا اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیئے کہ گوادر بلوچ قوم کی ملکیت اور میراث ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہاسلام آباد میں بیٹھے ذمہ دار اور غیرذمہ دار حضرات سے عرض ہے کہ خوش قسمتی سے وہ گوادر کو سوئی کی گیس اور چاغی کے سونے و تانبے کی طرح نکال کر تو نہیں لے جاسکتے مگر پھر بھی سی پیک کی صورت میں گوادر کے نام پر بھرپور بیرونی سرمایہ تو بٹور ہی رہے ہیں۔ اس کے باوجود ایسی غیرذمہ دارانہ بیان بازی اور بیانیہ سازی سے زمینی حقائق تو تبدیل نہیں ہوں گے البتہ گوادر میں بلوچوں کے مستقبل اور اسلام آباد کی نیت سے متعلق بلوچستان میں پائے جانے والے خدشات میں اضافہ ضرور ہوگا۔
گوادر بلوچوں کی تاریخی ملکیت ہے، سی پیک کے نام پر لوٹ مار بند کی جائے،میر کبیر محمد شہی

ٹیگز:
میر کبیر محمد شہی
