قلعہ سیف اللہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ظالمانہ اضافے کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں آج قلعہ سیف اللہ میں ایک عظیم الشان، بھرپور اور تاریخی احتجاجی جلوس اور عوامی اجتماع منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر ملک بھر میں مسلط مہنگائی کے طوفان، بالخصوص پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے جا، غیر منصفانہ اور عوام دشمن اضافے کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور حکومتی پالیسیوں کو سخت الفاظ میں مسترد کر دیا گیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹری مالیات اور میونسپل کمیٹی کے چیئرمین سید اکبر خان کاکڑ کی قیادت میں منعقد ہوا، جس میں پارٹی کے کارکنان، عہدیداران اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء کی بڑی تعداد نے اس امر کا واضح ثبوت دیا کہ عوام اب مزید ظلم، مہنگائی اور ناانصافی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جلسے سے پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن شمس رودوال، صوبائی کمیٹی کے رکن سمیع اللہ سمسور اور پی ایس او کے ضلعی ڈپٹی سیکرٹری سمیع اللہ کاکڑ نے انتہائی پرجوش، مدلل اور بھرپور خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکمرانوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں جاری ہوشربا مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، غریب آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہے جبکہ حکمران طبقہ عوامی مسائل سے مکمل طور پر لاتعلق ہو کر اپنی عیاشیوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور اس کی غلط پالیسیوں نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ مقررین نے مزید کہا کہ قلعہ سیف اللہ میں حالیہ شدید بارشوں اور ژالہ باری نے زمینداروں اور کاشتکاروں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں اربوں روپے کے نقصانات ہوئے ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ صوبائی حکومت نے کوئی سنجیدہ اقدام اٹھایا اور نہ ہی وفاقی ادارے حرکت میں آئے۔ انہوں نے اس صورتحال کو مجرمانہ غفلت اور بے حسی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر نقصانات کا جامع سروے شروع کریں، ضلع قلعہ سیف اللہ کو آفت زدہ قرار دیا جائے اور متاثرین کے لیے فوری امدادی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ اجلاس میں واپڈا کی جانب سے بجلی کے نظام کی بدترین صورتحال اور بجلی کے تاروں و کھمبوں کی مسلسل چوری پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ انتظامیہ کی نااہلی اور عدم توجہی کے باعث یہ جرائم روز بروز بڑھ رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام عوام پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ اگر فوری اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو عوام سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مزید برآں، مقررین نے قلعہ سیف اللہ میں تقریباً 200 اسکولوں کی بندش کو ایک سنگین المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومتی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے کہ معصوم بچوں کو تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تمام بند اسکولوں کو کھولا جائے، اساتذہ کی تعیناتی یقینی بنائی جائے اور تعلیمی نظام کو فعال کیا جائے، بصورت دیگر اس ناانصافی کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اگر عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور اسے ایک بھرپور عوامی تحریک میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ حکمرانوں کو عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جا سکے اور عوام کے حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے۔
قلعہ سیف اللہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج

ٹیگز:
قلعہ سیف اللہ
