کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و رسورسز اور سیاسی و اقتصادی امور کے ماہر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں مہنگائی کی شرح 44 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے بجلی اور گیس کے نرخوں نے غریب صارفین کا جینا دوبھر کردیا ہے سردیوں کے موسم میں جبکہ پنکھے اور اے سی مکمل طور پر بند ہوتے ہیں ایک عام صارف کے گھر کا بل بیس سے پینتیس ہزار روپے آ رہا ہے جبکہ گیس کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے لیکن گیس کے بل ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں روپے میں آنے لگے ہیں تین چار افراد کی ایک عام فیملی کا گیس کا بل پچاس سے اسی ہزار روپے موصول ہو رہا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمدعبدالقادر نے کہاکہ ایسے بد ترین معاشی حالات میں ایک بار پھر بجلی کی فی یونٹ قیمت 5.62 روپے مہنگی کی جا رہی ہے پاکستان بھر میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے مزید بجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ پہلے سے بدحال عوام کے سر پر ایک بم مارنے کے مترادف ہے اس اضافے سے بجلی صارفین پر کم و بیش 50 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا نیپرا نے نومبر کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 4.13 روپے فی یونٹ مہنگی کی تھی اضافہ دسمبر 2023 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مانگا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل عوام کو ریلیف دینے کی بجائے عوام کے سر پر ایک اور بوجھ لاد دیا ہے اب تو عوام کی سکت جواب دے گئی ہے گزشتہ ایک برس میں چھ بار نرخوں میں اضافہ کیا گیا ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ چھ بار عوام کو ریلیف دیا جاتا لیکن شاید حکومتی اداروں کی ترجیحات میں عوام کو ریلیف دینا شامل ہی نہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ بجلی اور گیس کے اداروں کے درمیان عوام کا خون نچوڑنے کا مقابلہ ہو رہا ہے یوں لگتا ہے حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ اگر حکومت نے بجلی اور گیس کے نرخوں میں خاطر خواہ کمی نہ کی تو صنعتی صارفین کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا رہے گا اور انکی مصنوعات عالمی منڈیوں سے باہر ہوتی جائیں گی دنیا بھر میں مصنوعات کے درمیان بڑے پیمانے پر مسابقت جاری رہتی ہے پیداواری لاگت ان مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں بقا کے قابل نہیں رہنے دیتی اسی وجہ سے برآمدات میں واضح کمی واقع ہونے لگتی ہے نتیجتاً زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کی بجائے تیزی سے کم ہونے لگتے ہیں یوں ملک مسلسل مالیاتی خسارے میں چلا جاتا ہے۔
حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں، سینیٹر محمد عبدالقادر

ٹیگز:
سینیٹر محمد عبدالقادر
