کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)گورنمنٹ ٹیچرز بلوچستان کے صدر حاجی حبیب الرحمن مردان زئی نے کہا ہے کہ تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ کی حالت انتہائی تشویشناک ہے کسی بھی وقت کچھ ہوسکتا ہے حکمران فوری طور پر مطالبات تسلیم کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کریں،بلوچستان اسمبلی کے سامنے آج ہونے والا احتجاجی مظاہرہ اب 19جون کوہوگا تاہم بلوچستان بھر کے اسکولز آج سے غیر معینہ مدت کیلئے بند رہیں گے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں حاجی حبیب الرحمن مردان زئی نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے سامنے اساتذہ کی تادم مرگ بھوک ہڑتال نویں روز میں داخل ہوگئی ہے اوراکثر اساتذہ کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جس کی وجہ سے انکو کسی بھی وقت کچھ ہوسکتا ہے ایک بار پھر وزیراعلیٰ بلوچستان،چیف سیکرٹری بلوچستان اوردیگرارباب اختیار سے اپیل ہے کہ اب بھی وقت ہے فی الفور اساتذہ کے تمام جائز مطالبات تسلیم کرتے ہوئے اسکا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاکہ اساتذہ کرام جو قوم کے معمار ہیں اس اذیت ناک صورتحال سے بچ سکیں اگر خدانخواستہ کسی بھوک ہڑتال کی زندگی کو کچھ ہوا تو پھر سب کچھ دھرے کا دھرہ رہ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے آج (جمعہ) کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنے اورمظاہرے کا اعلان کیاتھاتاہم صوبائی حکومت نے بجٹ اجلاس 16جون کی بجائے 19جون کو کردیا ہے لہذا گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اعلان کردہ 16جون کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے ہونے والا دھرنا اورمظآہرہ اب 19جون کو ہونے والے بجٹ اجلاس والے دن ہوگا جس میں بلوچستان بھر کے اساتذہ کرام شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اسکولوں کی بندش کا فیصلہ برقرار ہے آج (جمعہ) سے صوبے بھر کے تمام اسکول غیر معینہ مدت کیلئے بند رہیں گے۔
تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ کی حالت انتہائی تشویشناک ہے کسی بھی وقت کچھ ہوسکتا ہے، حاجی حبیب الرحمن مردان زئی

