اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے چار شہروں میں فوج اور رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاق کو خط لکھ دیا ہے۔محکمۂ داخلہ پنجاب نے خط میں راولپنڈی، میانوالی، اٹک اور جہلم میں پانچ اکتوبر تک فورسز کی خدمات مانگی ہیں۔
پنجاب حکومت کے مراسلے کے مطابق، راولپنڈی میں رینجرز کی تین کمپنیاں، اٹک میں رینجرز کے پانچ ونگز اور جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی ایک ایک کمپنی تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال اور امن و امان کے قیام کے لیے پاک فوج کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، جس کے لیے آئینی اور قانونی طریقہ کار موجود ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 245 وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ملک کے دفاع یا قانون کی عملداری اور سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کرے۔اس کے علاوہ ضابطہ فوجداری کی مختلف دفعات کے تحت بھی سول حکام کی معاونت کے لیے فوجی دستوں کو تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔
قانون کے مطابق داخلی سطح پر جب امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو جائے، دہشت گردی کا خدشہ ہو، یا پولیس اور دیگر سول سیکیورٹی ادارے صورتحال پر قابو پانے میں ناکافی محسوس ہوں، تو سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کے دستے بلائے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ ملک میں ہونے والے اہم مواقع پر پرامن ماحول کو یقینی بنانے کے لیے بھی فوجی اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان میں ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات، بڑے مذہبی اجتماعات، اور بین الاقوامی شخصیات یا غیر ملکی وفود کے دورے شامل ہیں۔
امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 بھی نافذ کر دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے، جلوس نکالنے، اور کسی بھی قسم کا اکٹھ کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندی 23 ستمبر سے پانچ اکتوبر تک نافذ العمل رہے گی، جبکہ اس دوران کسی بھی غیر قانونی اجتماع کے لیے لوگوں کو اکسانے یا متحرک کرنے پر بھی سخت قانون اور یکساں ممانعت ہوگی۔اس فیصلے کے تحت عوامی مقامات پر تمام اقسام کے چھوٹے بڑے ہتھیار ساتھ لے کر چلنے اور ان کی نمائش کرنے پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے عام شہریوں کی سہولت اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض اہم سرگرمیوں کو اس پابندی سے استثنیٰ بھی فراہم کیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق شادی بیاہ کی تقریبات، نمازِ جنازہ، تدفین کی رسمیں، عبادت گاہوں میں باقاعدہ عبادات، عدالتیں، اور تمام حکومتی ادارے معمول کے مطابق اپنے کام جاری رکھیں گے۔ اس کے علاوہ باضابطہ انتظامی اجازت سے منعقد ہونے والی تقریبات کو بھی اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ روزمرہ کی ضروری زندگی متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کو ملانے والی اہم شاہراہوں اور موٹرویز کو سیکیورٹی اقدامات کے تحت بند کردیا گیا ہے۔موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق ایم ون، ایم 14، ہزارہ موٹروے اور جی ٹی روڈ کو رات 11 بجے سے تاحکم ثانی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق ایم ون اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک جبکہ ایم 14 ہکلہ سے کنڈل تک بند رہے گی۔ جی ٹی روڈ کو اٹک خورد، ای 35 ہزارہ موٹروے کو ہزارہ انٹرلنک، راولپنڈی کوہاٹ روڈ کو خوشحال گڑھ جبکہ ایبٹ آباد حسن ابدال روڈ کو جھاری کس چیک پوسٹ سے ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کیا گیا ہے۔وفاقی دارالحکومت میں بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کی مختلف شاہراہوں اور حساس مقامات پر تقریباً 1200 کنٹینرز لگا کر ریڈ زون کو چاروں اطراف سے سیل کردیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ریڈ زون کے بعض مقامات پر کنٹینرز کی دوہری تہہ بھی لگائی گئی ہے، جبکہ ریڈ زون کے پانچ میں سے دو داخلی راستے مکمل طور پر بند ہیں۔ترنول، سنگجانی، شاہراہ ایران، 26 نمبر چنگی، سری نگر ہائی وے، ٹی چوک روات اور فیض آباد میں کنٹینرز لگا کر ناکہ بندی کی گئی ہے، جبکہ بہارہ کہو کے مقام پر کشمیر سے آنے والا راستہ بھی بند کردیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 22 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق شہر کی سیکیورٹی کی نگرانی کے لیے 8 ڈی آئی جیز اور 10 ایس ایس پیز تعینات ہیں، جبکہ 40 ایس پیز، 58 ڈی ایس پیز اور 266 انسپکٹرز مختلف سب سیکٹرز میں ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ پنجاب اور سندھ سے 13 ہزار سے زائد پولیس اہلکار بھی اسلام آباد طلب کیے گئے ہیں، جبکہ ایف سی اور رینجرز کے اہلکار بھی وفاقی دارالحکومت پہنچ چکے ہیں۔
سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے لیے شہر کے بعض تعلیمی اداروں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد میں 15 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے تمام اقدامات شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

