ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے ملک میں مجموعی طور پر 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے ہیں، دہشت گردوں کو یا تو ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا پھر ہم انہیں ختم کر دیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا جان بوجھ کر یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، دہشت گرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر ہم ان کے لڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق جان بوجھ کر پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ ایلیٹ اور سردار چاہتے ہیں کہ غریب کا بچہ آگے نہ بڑھے، دہشتگردوں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے، اسٹیٹس کویہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھےنہیں، ہمیشہ ان کا غلام رہے، انہیں عادت ہے لیویز میری ذاتی فورس ہے، میں اس کا سردارہوں، بلوچستان کا مسئلہ وہاں کے سردار اورایلیٹ طبقہ ہے، ان کو اپنےذاتی گھروں کی چوکیداری کیلئے لیویزفورس چاہیے، ہم ایلیٹ کلاس اور سردار سے نہیں بلوچستان کے لوگوں سے بات کریں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ لوگ لیویز فورس کو اپنی سرداری فورس سمجھتےہیں، دوسری صورت میں دہشتگردی کرنےکی دھمکیاں دیتےہیں، افغان طالبان رجیم کا ایک ہی کام ہے یہ دہشتگردی کوبطورکاروبارکرتےہیں، افغانستان اوربھارت کےدرمیان بی ایل اے کے علاوہ اورکیا چیزمشترکہ ہے، یہ افغانستان نہیں، افغان طالبان رجیم کے زیرقبضہ علاقے ہیں۔
ایلیٹ کلاس اور سردار بلوچستان کی ترقی کے خلاف ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

ٹیگز:
ڈی جی آئی ایس پی آر
