کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ، حضرت علی اچکزئی، یاسین مینگل، عمران ترین، حاجی سعداللہ اچکزئی،حاجی ھاشم کاکڑ، محمد جان درویش، ظفر کاکڑ، نقیب کاکڑ،اللہ داد اچکزی،جانگھر لانگو اور دیگر کابینہ اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں حکومت بلوچستان کی جانب سے ژوب اور لورالائی ڈویژن کے قبائلی اضلاع سے ٹیکس فری حیثیت ختم کرکے بینکوں کے ذریعے رقم نکلوانے اور دیگر مالیاتی معاملات پر ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ قبائلی عوام، تاجروں، زمینداروں، ٹرانسپورٹروں اور مائننگ کے شعبے سے وابستہ افراد کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔بیان میں انجمن تاجران لورالائی کے صدر محمد صابر کدیزئی، سنجاوی کے صدر محمد کلیم اللہ دمڑ، دکی کے صدر شاہ محمد ناصر، مسلم باغ کے صدر عارف کاکڑ، قلعہ سیف اللہ کے صدر رحمت اللہ خوستی، کوہلو کے صدر محمد حنیف زرکون، موسیٰ خیل کے صدر شراف الدین موسی خیل انجمن تاجران دالبندین چاغی کے صدر ٹکری نوراحمد ساسولی نے کہا ہیں کہ ڑوب، شیرانی، قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، سنجاوی، لورالائی، دکی، موسیٰ خیل، بارکھان، کوہلو، رکھنی اور دیگر قبائلی علاقے تاریخی طور پر خصوصی آئینی و انتظامی حیثیت رکھتے تھے اور ان علاقوں کو مختلف ٹیکسوں سے استثنا حاصل تھا، کیونکہ حکومت خود یہ تسلیم کرتی رہی ہے کہ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات، سرکاری خدمات اور ریاستی ڈھانچہ ملک کے دیگر علاقوں کے برابر موجود نہیں۔ اب بغیر کسی عوامی مشاورت اور متبادل سہولیات فراہم کیے ان علاقوں پر نئے ٹیکس نافذ کرنا سراسر ناانصافی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ایک طرف پورا بلوچستان بدترین بدامنی، دہشت گردی اور معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ قومی شاہراہوں پر تاجروں کے مال بردار ٹرک جلائے جا رہے ہیں، دکی سے کوئلہ لے جانے والی گاڑیوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے، مسلم باغ اور دیگر علاقوں میں مائننگ کی سرگرمیاں شاہراہوں کی غیر محفوظ صورتحال کے باعث شدید متاثر ہیں، جبکہ تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو مسلسل جانی و مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف حکومت انہی متاثرہ علاقوں کے عوام پر نئے ٹیکس نافذ کرکے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اضلاع کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت، لائیو اسٹاک اور مائننگ پر ہے، لیکن مسلسل خشک سالی، موسمیاتی تبدیلی، بے وقت بارشوں، ڑالہ باری اور قدرتی آفات نے زمینداروں کی تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دوسری جانب شاہراہوں پر عدم تحفظ کی وجہ سے کسان اور زمیندار اپنی پیداوار ملک کی بڑی منڈیوں تک بھی نہیں پہنچا پا رہے۔ ایسے حالات میں حکومت کا فرض تھا کہ ان علاقوں کو آفت زدہ اور شورش زدہ قرار دے کر تاجروں، زمینداروں، ٹرانسپورٹروں اور مائننگ سیکٹر کے لیے خصوصی ریلیف پیکج اور سبسڈی کا اعلان کرتی، نہ کہ ان پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالتی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ان قبائلی علاقوں میں آج بھی صحت، تعلیم، مواصلات، پینے کے صاف پانی، شاہراہوں اور دیگر بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ معمولی نوعیت کے مریضوں کو علاج کے لیے کوئٹہ یا پنجاب کے ہسپتالوں میں ریفر کیا جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں ریاستی رٹ اتنی کمزور ہے کہ ائے روز مختلف دہشت گرد گروہ شاہراہوں پر ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی چیکنگ کرتے ہیں اور خوف و ہراس پھیلانے کے علاوہ معصوم لوگوں کو قتل کرتے یا اغواء کرتے ہیں، ایسے حالات میں عوام اپنی جمع پونجی بینکوں میں محفوظ سمجھتے تھے، مگر اب حکومت نے اس پر بھی ٹیکس عائد کرکے عوام کی آخری معاشی سہولت بھی متاثر کر دی ہے۔مرکزی انجمن تاجران نے رہنماؤں نے بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے ان علاقوں میں ایسی کوئی مؤثر سہولت، آگاہی یا نظام بھی فراہم نہیں کیا گیا جس کے ذریعے عوام آسانی سے ٹیکس نیٹ یا فائلر نظام میں شامل ہوسکیں۔ لہٰذا موجودہ حالات میں ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر مالیاتی کٹوتیوں کا نفاذ زمینی حقائق کے سراسر منافی ہے۔ بیان میں کہا کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے آج ڑوب، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، سنجاوی، دکی، موسیٰ خیل، بارکھان، کوہلو، ڈیرہ بگٹی نوشکی چاغی شیرانی، رکھنی اور دیگر علاقوں میں تاجروں، عوام اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا احتجاج جائز، آئینی اور ان کے معاشی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر خزانہ، حکومت بلوچستان اور وفاقی بورڈ آف ریونیو سے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع پر نافذ کیے گئے ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر نئے ٹیکس فوری طور پر واپس لیے جائیں، ان علاقوں کی خصوصی حیثیت کو بحال رکھا جائے، اور جب تک وہاں امن و امان، بنیادی سہولیات، صحت، تعلیم، روزگار اور تجارتی انفراسٹرکچر دیگر علاقوں کے مساوی نہیں ہو جاتا، اس وقت تک کسی بھی قسم کے نئے ٹیکس نافذ نہ کیے جائیں۔بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر حکومت نے قبائلی اضلاع کے عوام، تاجروں اور زمینداروں کے جائز مطالبات کو نظر انداز کیا تو مرکزی انجمن تاجران بلوچستان تمام متاثرہ اضلاع کی تاجر تنظیموں، ٹرانسپورٹرز، زمیندار تنظیموں اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد بلوچستان بھر میں مشترکہ احتجاجی تحریک، شٹر ڈاؤن ہڑتال اور دیگر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
ٹیکس استثنی ٰ ختم کرنے کا فیصلہ قبائلی عوام، تاجروں، زمینداروں، ٹرانسپورٹروں اور مائننگ کے شعبے سے وابستہ افراد کے معاشی قتل کے مترادف ہے، رحیم کاکڑ

ٹیگز:
رحیم کاکڑ
