لاہور،کوئٹہ:امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے حق دو لانگ مارچ کے شرکا جائز اور آئینی مطالبات کے حل کیلئے اسلام آباد جانا چاہتے ہیں، لیکن مظفرگڑھ میں 24 گھنٹے اور لاہور میں 50 گھنٹے سے زائد محصور رکھ کر طاقت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جو سیاسی اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹریٹ منصورہ اور لاہور پریس کلب کے سامنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ لانگ مارچ کے راستے میں بکتربند گاڑیاں، 2000 سے زائد پولیس اہلکار اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اسلام آباد جانے نہیں دیا جائے گا یا مطالبات تسلیم نہیں ہوں گے، لاہور پریس کلب کے سامنے دھرنا جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے ظلم و ناانصافی کے باعث بلوچستان کے نوجوان باغی ہو رہے ہیں، لیکن ہم پرامن سیاسی جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف سی کو عوام، بزرگوں اور خواتین کی تذلیل سے روکا جائے، لاشیں گرانے اور لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔مولانا ہدایت الرحمان نے مطالبہ کیا کہ سی پیک، سیندک اور ریکوڈک کے ثمرات اہل بلوچستان کو دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی خیرات نہیں، بلکہ آئینی و جمہوری حقوق مانگ رہی ہے، جو حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو ان کا حق دیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور کے عوام، جماعت اسلامی پنجاب اور کارکنان نے جس محبت اور خدمت کا مظاہرہ کیا، وہ قابل تحسین ہے، مگر حکمرانوں نے لانگ مارچ کے شرکا کو محصور کر کے، پانی و خوراک بند کر کے غلط پیغام دیا ہے۔ ہم پر ظلم کر کے حکمرانوں نے دل توڑنے، دوریاں اور غصہ بڑھانے والی پالیسی اپنائی ہے، جس کے نتائج خطرناک ہوں گے۔جماعت اسلامی بلوچستان نے اعلان کیا کہ ظلم، ناانصافی، لاپتہ افراد، وسائل کی لوٹ مار اور ریاستی جبر کے خلاف آئندہ بھی جمہوری جدوجہد جاری رہے گی۔
جب تک اسلام آباد جانے نہیں دیا جائے گا لاہور پریس کلب کے سامنے دھرنا جاری رہے گا،مولانا ہدایت الرحمان

