کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پروگریسیو ریفارمرز آف بلوچستان کے چیئرمین ملک سلطان العارفین دھوار، سیف اللہ وطن دوست، نور محمد پرکانی، محمد اقبال سمالانی، میر جنگی خان اور غلام حیدر بنگلزئی نے ایک مشترکہ پریس بیان میں صوبے میں جاری زرعی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے >رہنماؤں نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے بلوچستان کے زمینداروں کو ان کے باغات، فصلات اور زرعی زمینوں کی آبیاری کے لیے صرف 2 سے 3 گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جو کہ سراسر ظلم اور زراعت دشمن پالیسی کا عکاس ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ”صوبے میں ہزاروں ایکڑ پر محیط باغات خشک ہو چکے ہیں، ٹماٹر، پیاز، انگور، سیب، بادام، انار اور دیگر فصلات تباہ ہو رہی ہیں۔ جن کسانوں نے تیس سے چالیس سال کی محنت اور اپنی عمر بھر کی جمع پونجی ان زمینوں پر لگائی تھی، وہ آج شدید مالی، ذہنی اور جذباتی کرب کا شکار ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت اور باغبانی پر ہے، اور اگر فوری طور پر بجلی کی فراہمی بہتر نہ کی گئی تو یہ پورا زرعی شعبہ تباہ ہو جائے گا، جس کے اثرات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ قومی غذائی تحفظ پر بھی پڑیں گے
مطالبات: رہنماؤں نے گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ بلوچستان، سیکریٹری توانائی، چیف سیکریٹری اور متعلقہ اداروں سے درج ذیل مطالبات کیے۔زرعی صارفین کے لیے بجلی کی فراہمی کم از کم 8 گھنٹے یومیہ کی جائے۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول فوری طور پر شفاف انداز میں عوام کے سامنے لایا جائے۔
زمینداروں کو سبسڈی دی جائے تاکہ وہ ٹیوب ویل، موٹریں اور سولر سسٹمز نصب کر سکیں۔محکمہ زراعت، انرجی اور واپڈا کا ایک مشترکہ ایمرجنسی پلان تیار کیا جائے تاکہ مزید نقصانات روکے جا سکیں

