کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سولہ ایکر میں نوجوان محمود خان کو ایک لڑکی کے ہمراہ لے جانے پر تین افراد نے اغوا کیا اور امام بارگاہ خاتم النبیا میں لے جا کر 100 سے زائد افراد کے سامنے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعہ 12 جولائی کی شام 7:30 بجے پیش آیا، جب محمود خان جو سائنس کالج کا طالب علم ہے وہ “حنا” بتول کے ہمراہ ایئرپورٹ روڈ سے ڈیم جا رہا تھا۔متاثرہ نوجوان کی جانب سے تھانہ کینٹ میں درج ایف آئی آر کے مطابق، تین افراد جو موٹر سائیکل پر سوار تھے اور شکل و صورت سے ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے تھے، نے ان کی گاڑی کا تعاقب کیا، سولہ ایکڑ کے مقام پر انہیں روک کر زبردستی گاڑی سے نکالا اور امام بارگاہ لے گئے، جہاں ایک ہجوم نے محمود خان پر لاتوں، مکوں اور گھونسوں سے حملہ کر دیا۔ نوجوان کے مطابق، حملہ آوروں نے لڑکی کی موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے اسے بھی زبردستی ساتھ لے گئے اور بعد ازاں امام بارگاہ انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس موقع پر پہنچی تو حملہ آور فرار ہو گئے۔پولیس کے مطابق محمود خان کے چہرے، جبڑے اور کندھے پر واضح چوٹیں آئی ہیں، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے لیے سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کے بعد تھانہ کینٹ میں نامعلوم ملزمان کے خلاف دفعات 147، 149، 341، 342، 337 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
کوئٹہ،درجنوں افراد نےنوجوان لڑکا لڑکی کو اغوا کر کے امام بارگاہ لے جا کر تشدد کا نشانہ بنا دیا

