کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) فپواسا بلوچستان چیپٹر اور اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے رہنماں نے ایک مشترکہ مذمتی بیان میں صوبائی حکومت اور اس کے وزرا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ سیشن کے دوران بلوچستان گرینڈ الائنس کے تحت دیے گئے احتجاجی دھرنے کے بعد حکومتی کمیٹی نے جامعات کے لیے 11 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بجٹ تقریر میں صرف 8 ارب روپے رکھ کر وعدے سے انحراف کیا گیا جو اساتذہ کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔بیان میں صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، جنرل سیکرٹری پروفیسر فرید خان اچکزئی، نائب صدر ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی، فنانس سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ باز محمد کاکڑ، جوائنٹ سیکرٹری میڈم زہرا ملغانی اور ایگزیکٹو ممبران نے کہا کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے گرینڈ الائنس کے رہنماں سے تسلیم شدہ نکات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن بجٹ میں ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔رہنماں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور آفیسران کو 22 دن گزرنے کے باوجود مئی کی تنخواہوں اور پنشنز سے محروم رکھا گیا ہے، اور سیکرٹری فنانس کی جانب سے ریلیز آرڈر میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں، جو اساتذہ دشمنی کا مظاہرہ ہے۔بیان میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ:فوری طور پر جامعہ بلوچستان کے لیے تنخواہوں اور پنشنز کے ریلیز آرڈر جاری کیے جائیں۔مالی بحران کے مستقل حل کے لیے صوبائی بجٹ میں کم از کم 15 ارب روپے مختص کیے جائیں۔مذاکرات میں کیے گئے تمام وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور وزارتی کمیٹی اپنی پوزیشن واضح کرے۔اساتذہ رہنماں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو وہ آئندہ سخت ردعمل دینے پر مجبور ہوں گے۔
جامعہ بلوچستان کے اساتذہ تنخواہوں سے محروم، حکومت وعدوں سے منحرف ہو گئی، فپواسا

