کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان اسمبلی میں بجٹ پر بحث ،اپوزیشن لیڈر نے بجٹ میں تجاویز شامل نہ کرنے پر ایوان سے واک آئوٹ کردیا۔بلوچستان اسمبلی کااجلاس ہفتے کو اسپیکر صوبائی اسمبلی کیپٹن(ر)عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔اجلاس میں بجٹ پر بحث کاآغاز کرتے ہوئے رکن اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہاکہ بجٹ میں ہم پچھلے سال کی کارکردگی دیکھتے ہیںوفاق میں ہمارے حقوق کو تسلیم نہیں کیا جاتابلکہ وفاق ہمیں غریب اور غیر تعلیم یافتہ کا طعنہ دیتا ہے،ماشکیل میں ریکوڈک والوں کیلئے 25 ارب کا ڈیم بنایا جارہا ہے،وفاق نے ہمیشہ ہمارے ساتھ ظلم کیا،بلوچستان میں ہمیں موٹر وے اور دیگر چیزیں چاہیے،حقوق کی بات کرنیوالوں کو طعنے ملتے ہیں۔ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاکہ جھالاوان میڈیکل کالج کو بجٹ سے نکالنا خطرناک ہے،مشکلات ہر جگہ ہیں مگر ایسا کرنا درست نہیں ہے ۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ حکومت اس حوالے سے کسی کا کوئی نقصان نہیں کریگی،کسی اسکیم کو نظرانداز نہیں کرینگے۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہاکہ حکومت اپنی کوتاہی ہم پر نہ ڈالے،تجاویز شامل نہ کرنے کرنے پر اپوزیشن لیڈر نے ایوان سے واک آئوٹ کیا تاہم بعدازاں اپوزیشن واک آوٹ ختم کرکے ایوان میں آگئی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی نے کہاکہ بلوچستان کے حقوق پر مفافقت نہیں کریں گے واک آوٹ کرناجمہوری عمل ہے ، خضدار کے لوگوں کے ساتھ زیادتی نہیں کریں گے 2016 کے منصوبوں کو پی ایس ڈی پی سے نکال دیاگیاہے ، رکن اسمبلی ڈاکٹر نواز کبزئی نے کہاکہ ژوب کے علاقے کبزئی میں 1947 سے ابتک سرکاری سطح پر کوئی ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی ، نئے مالی سال کے بجٹ میں ژب کے لئے فنڈرکھے گئے ہیں ، ، رحمت صالح بلوچ نے کہاکہ ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث بلوچستان پر اثرات پڑیں گے حکومت کو موجودہ صورتحال پر توجہ دیناچاہیے ، نیا بجٹ پرانے بجٹ کا تسلسل ہے بجٹ میں کوئی میگا پروجیکٹ نہیں جونوجواں کی مایوسی کو ختم کرسکے ، وفاق کی جانب سے بھی صوبے کے کوئی بڑا منصوبہ شامل نہیں کیاگیاہے سولرسسٹم پر ٹیکس لگانے سے زمینداورں اور عام لوگوں کی مشکلات بڑھیں گی بجٹ میں عوامی مفاد کے منصوبے کم ہیں ، امید ہے کہ وزیراعلی عوامی مسائل پر توجہ دیں گے مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے ملازمین مطالبات منظورنہ ہونے پر دوبارہ احتجاج کریں گے ، تعمیری تنقید کررہے ہیں ،۔اس موقع پر صوبائی وزیر پلاننگ وڈویلپمنٹ میر ظہور احمد بلیدی نے کہاکہ 2025.26 کابجٹ متوازن ہے ، بجٹ میں تمام سیکٹر کو اہمیت دی گئی ہے ، بجٹ میں سوشل پروٹیکشن کو اولیت دی گئی ہے بلوچستان کے تمام علاقے میں سبزی منڈیاں بنائی گئی ہے ۔ میٹ پروسسنگ پلانٹ لگائے جائیں گے ، فرٹیلائزر سٹیز بنائیںگے، آبنوشی کی نئی اسیکمیات بنائیں گے ، گوادر میں پینے کے پانی کے منصوبے اس سال مکمل کئے جائیں گے ، وفاقی پی ایس ڈی پی میں لڑجھگڑ کر زیادہ حصہ لیاہے ، بلوچستان میں علاقائی اور حلقے کی بنیادوں پر اسیکمات نہیں رکھی گئی ہیں ، بلکہ بڑفے منصوبے شامل کئے ہیں ، تمام شعبوں کی ترقی کے لئے کافی فنڈز رکھے گئے ہیں ، انہوں نے کہاکہ حکومت نے رواں سال میں 100 فی صد بجٹ خرچ کیا،رکن اسمبلی غلام دستگیر بادینی نے کاکہ ایسی کمیٹی بنائی جو 2024.25 کی اسکیمات کو چیک کرے ، بلوچستان کے لوگ بنیادی حقوق کے رو رہے ہیں ، حکومتی اوراپوزیشن کے حلقوں میں پانچ پانچ ماڈل پروجیکٹ رکھے جاتے ، بلوچستان میں واٹر لیول دن بدن گر رہاہے ، مستقبل کا پانی بھی استمعال کرچکے ہیں ،بعدازاں بلوچستان اسمبلی کااجلاس 23جون دن تین بجے تک ملتوی کردی گئی ۔
بجٹ پر بحث ،اپوزیشن لیڈر کا بجٹ میں تجاویز شامل نہ کرنے پر ایوان سے واک آئوٹ

