چمن(ڈیلی گرین گوادر) چمن میں پیٹرول کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، ایرانی پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 300 روپے تک جا پہنچی جبکہ پاکستانی پیٹرول بھی دستیاب نہیں، پمپ مالکان کی جانب سے ذخیرہ اندوزی کے باعث عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ذرائع کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور مستونگ و بلیلی کے راستے ایرانی پیٹرول کی ترسیل پر پابندی کے سبب چمن میں پیٹرول کی فراہمی مکمل طور پر بند ہو گئی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی پیٹرول پمپس پر بھی سپلائی روک دی گئی ہے کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر پمپ مالکان نے اپنے پٹرول پمپ بند کر دیئے ہیں اور دستیاب پیٹرول کو ذخیرہ کر لیا ہے۔اس بحرانی کیفیت میں شہریوں کو بلیک مارکیٹ سے مہنگے داموں پیٹرول خریدنا پڑ رہا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ مقامی ٹرانسپورٹرز اور عوام نے ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لائسنس یافتہ ڈیلروں سے پیٹرول کی سرکاری نرخ پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے بروقت اقدامات نہ کیے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے اور امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
چمن میں پیٹرول ناپید، قیمت300روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا، انتظامیہ کی کارروائی

