کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ “اُڑانِ پاکستان” کوئی خیالی منصوبہ نہیں بلکہ ایک مربوط اور بصیرت افروز اقدام ہے، جس میں ترقی کے لیے واضح حکمت عملی اور عملی اقدامات شامل ہیں۔ وہ یہاں وفاقی وزارت منصوبہ بندی اور خصوصی اقدامات کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو مؤثر اصلاحات، سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی اور اہلیت پر مبنی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ حکومت نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں اصلاحات کا آغاز کیا ہے، اور 210 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مؤثر انداز میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے وفاقی حکومت کی معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کچھی کینال اور سڑکوں جیسے بڑے منصوبے وفاقی تعاون کے بغیر ممکن نہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر گورننس اور نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ ہفتے “برآمداتی ترقیاتی بورڈ” کی منظوری دی جائے گی، اور خصوصی صنعتی زونز کو علامتی نہیں بلکہ فعال مراکز بنایا جا رہا ہے۔ صادق پبلک اسکول میں بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کے 100 طلبہ کو وظائف دیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے طویل مدتی اور پائیدار منصوبوں پر کام کر رہی ہے جو عوام کو براہ راست فائدہ دیں، اور بلوچستان کو پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے ایک فخر انگیز صوبہ بنایا جا سکے۔

