کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ثناء بلوچ کی قیادت میں وفد کی نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ و دیگر قائدین سے بلوچستان کی موجودگی صورتحال پر نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔وفد نے نیشنل پارٹی کو بی این پی کی طرف کل جماعتی کانفرنس میں دعوت،نیشنل پارٹی نے دعوت کو قبول کیاملاقات میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا حکومت کی طرف سے طاقت کے استعمال کو منفی پالیسیوں کی تسلسل قرارد دیتے ہوئے کہا گیا کہ پرامن و جمہوری احتجاج کرنے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے لیکن گزشتہ دو دنوں سے سریاب میں پرامن احتجاج کو تشدد سے سبوتاڑ کیا گیا اور جس سے نوجوانوں کی قیمتی زندگی چلی گئی اور ساتھ ہی بی وائی سی کے قائدین کو گرفتار کیا گیا۔ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان کے سلگتے ہوئے مسائل پر نیشنل پارٹی اور بی این پی مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے۔لاپتہ افراد کا مسلہ انتہائی سنگین ہے جو فوری حل طلب ہے۔ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بیبو بلوچ سمیت دیگر گرفتار افراد کو رہا کرکے طاقت کی پالیسی کو ترک کرکے معاملات کو بات چیت نکالا جائے۔بی این پی وفد میں ملک نصیر شاہوانی آغا حسن بلوچ سابق گورنر ملک عبدالولی کاکڑ ٹکری شفقت لانگو حاجی باسط لہڑی بی ایس او کے سیکرٹری جنرل صمند بلوچ ملک محی الدین لہڑی علی احمد قمبرانی شامل تھے۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ صوبائی صدر اسلم بلوچ مرکزی فنانس سیکرٹری حاجی فدا حسین دشتی مرکزی ترجمان علی احمد لانگو ممبران مرکزی کمیٹی میر عبدالخالق بلوچ نیاز بلوچ جلیل لانگو ایڈوکیٹ موجود تھے
بلوچستان کے سلگتے ہوئے مسائل پر نیشنل پارٹی اور بی این پی مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے،ڈاکٹرمالک،ثناء بلوچ

ٹیگز:
بلوچستان
