کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی یاد پہلے کسی کو یاد نہیں آتی جب یہاں دھماکے ہوں توسب کو بلوچستان یاد آجا تا ہے،ہم نے اپنے صحافیوں کو کسی صورت بے روزگار نہیں ہونے دیں گے اگر بیورو آفیسز بند کر نے ہی ہیں تو پورے پاکستان میں بند کئے جائیں۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو بلو چستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کہی،وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ چیلنجز بہت بڑے ہیں ایک سالہ کار کر دگی پر کام کر رہے ہیں جلد ہی حکومت اپنی 1 سالہ کارکردگی میڈیا کے سامنے پیش کریگی۔ انہوں نے کہاکہ محدود وسائل میں فیصلہ کیا ہے کہ سروے کے مطابق تقریبا ً50 سے 60 ہزار خاندانوں کو راشن دیں گے۔ انہوں نے میڈیا ہاوسز بند کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ آدھے پاکستان میں بیورو آفیسز بند کردیئے جائیں اگر بند کرنے ہی ہیں تو پورے پاکستان میں بند کئے جائیں ہم یہ مسئلہ وزیر اعظم اورپاکستان براڈ کاسٹ کے سامنے یہ مسئلہ رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ یہ کون سا طریقہ ہے؟پہلے ہی بلوچستان کو نیشنل میڈیا نے نظر انداز کیا ہوا ہے بلوچستان یاد ہی تب آتا جب جہاں دھماکے ہوں ویسے بلوچستان کسی کو یاد نہیں آتا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے صحافی ویسے مشکل حالات میں کام کررہے ہیں ہم نے اپنے صحافیوں کو بے روزگار نہیں ہونے دیں گے ہم اپنے صحافیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کسی صورت کوئٹہ سے بیوروز بند نہیں ہونے دیں گے۔
کوئٹہ میں میڈیا ہاوسز بند ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں،بیوروز بند نہیں ہونے دیں گے،وزیراعلیٰ بلوچستان

ٹیگز:
وزیراعلیٰ بلوچستان
