کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے خیبرپختونخوا میں بڑھتی بدامنی پر پی ٹی آئی کی 12 سالہ حکمرانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی جانب توجہ دلائی ہے۔
نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں بدامنی بڑھتی رہی، تاہم سیاسی مارچ اور ایک شخص کی رہائی کی سیاست سرخیوں میں رہی، جبکہ پولیس اہلکار، سکیورٹی فورسز کے جوان اور عام شہری جانیں قربان کرتے رہے۔ پاکستان میں 2025 کے دوران 3 ہزار 413 اموات اور 1 ہزار 66 حملوں کے اعداد و شمار کا حوالہ بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ محض اعداد نہیں بلکہ انسانی جانوں اور اجڑے خاندانوں کی کہانی ہے۔ وفاقی حکومت نے سکیورٹی کے معاملے پر اتفاقِ رائے اور تعاون کی متعدد کوششیں کیں، تاہم ان کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔
نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کی سکیورٹی کے بجائے ٹک ٹاک پر رسائی بڑھانے اور سیاسی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع بولتا بلوچستان کے مطابق رئیسانی نے واضح کیا کہ حکومت کی پہلی ذمہ داری عوام کا تحفظ ہے اور سیاسی لڑائیوں کو سکیورٹی نظرانداز کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام امن، استحکام اور ذمہ دار قیادت کے مستحق ہیں، انہیں سیاسی الزام تراشی اور سوشل میڈیا کے تماشوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

