کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی، غیر جمہوری اور صوبائی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے کوئی آئینی اور قانونی جواز موجود نہیں۔ ایک منتخب صوبائی حکومت کو محض سیاسی اختلافات یا وفاقی حکمرانوں کے مخصوص مفادات کی بنیاد پر ختم کرنا جمہوری اصولوں، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقِ حکمرانی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ صوبے کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے جس حکومت کو منتخب کیا ہے، اس کے مینڈیٹ کا احترام کرنا وفاقی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر امن و امان کی صورتحال یا حکومتی رٹ کی عدم موجودگی کو ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا جواز بنایا جائے تو بلوچستان سمیت دیگر علاقوں کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے، جہاں عوام بدترین بدامنی، دہشت گردی اور حکومتی رٹ کے سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا کو نشانہ بنانا کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مطابق اس اقدام کے پسِ پشت سیاسی مفادات اور صوبے کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے عزائم کارفرما ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کو تقسیم کرنے اور معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں کے قدرتی وسائل پر اختیار حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے اقدامات اٹھانا قومی وحدتوں کے حقوق، صوبائی خودمختاری اور وفاقی نظام کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ کسی بھی صوبے کے عوام کو اپنے وسائل، سیاسی مستقبل اور منتخب حکومت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے، جسے کسی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں کہا گیا کہ موجودہ حکمرانوں نے پہلے آئین میں چھبیسویں اور ستائیسویں ترامیم کے ذریعے آئینی و جمہوری اداروں کے توازن اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق سنگین سوالات پیدا کیے، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت قومی وحدتوں کو حاصل اختیارات اور حقوق کو محدود کرنے کی کوششیں کیں اور پیکا ایکٹ کے ذریعے آزادیٔ اظہار اور صحافت پر قدغنیں لگانے کا راستہ اختیار کیا۔ اب ایک منتخب صوبائی حکومت کے خلاف ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ اسی طرزِ حکمرانی کا تسلسل ہے، جو جمہوری اداروں اور وفاقی پارلیمانی نظام کو کمزور کرنے کا باعث بن رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عدلیہ کی آزادی، آئین کی بالادستی اور آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کے بنیادی ستون ہیں۔ اگر عدلیہ آزاد اور مؤثر ہو اور جمہوری ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہوں تو ایسے اقدامات کا آئینی و قانونی احتساب ممکن ہوتا ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں عدلیہ کی آزادی، شہری آزادیوں اور صحافتی خودمختاری کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات نے جمہوری نظام کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم وفاقی پارلیمانی نظام میں صوبائی خودمختاری اور قومی وحدتوں کے حقوق کے تحفظ کی ایک اہم ضمانت ہے۔ اس ترمیم کی روح کے منافی اقدامات اور منتخب صوبائی حکومتوں کو غیر جمہوری طریقوں سے ان کے اختیارات سے محروم کرنا وفاق اور قومی وحدتوں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچائے گا۔ اسلام آباد اور لاہور میں بیٹھے حکمرانوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے پشتونخوا وطن کے عوام کے جمہوری حقوق اور اجتماعی قومی مفادات کو پامال کریں۔
بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت امر ہے کہ جس جماعت نے ماضی میں جمہوریت کی بحالی، آئین کی بالادستی اور منتخب حکومتوں کے تحفظ کے نام پر طویل جدوجہد کی اور بے شمار قربانیاں دیں، آج اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے دستخطوں سے خیبر پختونخوا کی منتخب صوبائی حکومت کے خلاف گورنر راج نافذ کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ جواب دینا ہوگا کہ اگر صدرِ مملکت کا منصب آئین کے تحفظ اور جمہوری اقدار کی پاسداری کے لیے ہے تو پھر ان کے دستخطوں سے ایک منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کے اقدام کا آئینی اور جمہوری جواز کیا ہے؟
بیان میں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کو اپنی ماضی کی جدوجہد اور قربانیوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی قربانیوں کا تقاضا یہ تھا کہ پیپلز پارٹی ہر غیر جمہوری اقدام کے خلاف کھڑی ہوتی، نہ کہ اپنی جماعت کے صدر کے ذریعے ایک منتخب حکومت کے خلاف گورنر راج کے نفاذ کی ذمہ داری قبول کرتی۔ جمہوریت کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ منتخب حکومتوں کے مینڈیٹ، آئینی حقوق اور پارلیمانی نظام کے تحفظ کے لیے واضح اور اصولی مؤقف اختیار کریں۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیر جمہوری اقدامات بالآخر خود ان قوتوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں جو وقتی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ان کی حمایت کرتی ہیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں نافذ کردہ ایمرجنسی اور گورنر راج کو فوری طور پر ختم کیا جائے، صوبائی اسمبلی اور منتخب حکومت کے آئینی و جمہوری اختیارات بحال کیے جائیں اور صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام یقینی بنایا جائے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ایسے غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدامات کو قبول نہیں کرے گی اور قومی وحدتوں کے حقوق، صوبائی خودمختاری، جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے دفاع کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

