کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے کوئٹہ یونیورسٹی سمیت دیگر جامعات کی تعلیمی بجٹ میں کٹوتی کوئٹہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں سے محرومی کے تشویشناک صورتحال کو پشتون بلوچ دو قومی صوبے کے تعلیمی درسگاہوں، دانش گاہوں کی تباہی سے تعبیر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کوئٹہ یونیورسٹی سمیت دیگرجامعات کے تعلیمی تحقیقی بجٹ میں اضافہ کرکے موجودہ تشویشناک صورتحال سے نجات دلائی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ یونیورسٹی کے ایک نمائندہ وفد سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد کی قیادت ایڈمنسٹریٹیو آفیسر ایسوسی ایشن یونیورسٹی کے چیئرمین نذیر لہڑی، آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے صوبائی چیئرمین وایمپلائز ایسوسی ایشن کوئٹہ یونیورسٹی کے صدر شاہ علی بگٹی، آفیسرز ایسوسی ایشن کوئٹہ یونیورسٹی کے جوائنٹ سیکرٹری سید شاہ بابر نے کی۔ اس موقع پر پشتونخوامیپ کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری نظام عسکر، صوبائی آفس سیکرٹری ملک عمر کاکڑ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر عبدالرحیم زیارتوال نے کوئٹہ یونیورسٹی کے 1996کے ایکٹ کو ختم کرنے اور یونیورسٹیز ایکٹ 2022کو بغیر کسی مشاورت اور سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیئے بغیر پاس کرنے کے عمل کو تعلیم دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت سے فوری طور پر یونیورسٹیز ایکٹ 2022کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی پشتون بلوچ دو قومی صوبے میں شعبہ تعلیم بالخصوص ہایئر ایجوکیشن کو صوبے کی ترقی کیلئے ناگزیر تصور کرتی ہے، ہائیر ایجوکیشن میں یونیورسٹیوں کا کردار بنیادی ہے، لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کو درپیش انتظامی، مالی بحرانوں کے خاتمے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر کوئی سنجیدہ اور تعلیم دوست اقدامات نظر نہیں آتے جس کی وجہ سے یونیورسٹیز میں اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں کیلئے بجٹ دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی نے اپنے دور حکومت میں جامعات کے فنڈز میں اضافے، طلباء وطالبات کی فیسز کی معافی اور انہیں تعلیمی مقاصد کیلئے لیپ ٹاپ مہیا کیئے جس سے ہزاروں غریب طلباء نے استفادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جن طلباء وطالبات نے ایم فل اور پی ایچ ڈی میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا انہیں انعامات سے نوازا گیا۔ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اور یوسف عزیز مگسی چیئرکی بلڈنگ کی تعمیر کیلئے 15کروڑ سے زائد رقم مہیا کی گئی، کوئٹہ یونیورسٹی سمیت دیگرجامعات میں تعمیری وتحقیقی کاموں کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز فراہم کیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ کوئٹہ یونیورسٹی کے مالی اور انتظامی مسائل کو حل کرنے کی بجائے یونیورسٹی ایکٹ میں اساتذہ آفیسران، سول سوسائٹی، طلباء، منتخب نمائندوں کی نمائندگی ختم کردی گئی اور یونیورسٹی کے پالیسی ساز اداروں سینٹ، سنڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل پر فرد واحد کی اجارہ داری قائم کردی گئی جس سے موجودہ بحران نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کی بہتری، ترقی، پرامن تعلیمی ماحول کے قیام کیلئے لازمی اور ضروری ہے کہ ماہرین تعلیم،اساتذہ، طلباء،سیاسی پارٹیوں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کی تجاویز کی روشنی میں یونیورسٹی کی پالیسیوں کی تشکیل کی جائے۔ آخر میں انہوں نے وفد کو کوئٹہ یونیورسٹی سمیت دیگر جامعات کے تمام بنیادی تعلیمی مسائل کے حل کیلئے شانہ بشانہ جدوجہد کی یقین دہانی کرائی۔
کوئٹہ یونیورسٹی سمیت دیگرجامعات کے تعلیمی تحقیقی بجٹ میں اضافہ کرکے تشویشناک صورتحال سے نجات دلائی جائے،عبدالرحیم زیارتوال

ٹیگز:
عبدالرحیم زیارتوال
