سبی(ڈیلی گرین گوادر)سالانہ سبی میلہ مویشیاں و اسپاں کا آغاز رنگا رنگ تقریبات سے ہو گیا،میلہ کا افتتاح صوبائی وزیرتعلیم بلوچستان میر نصیب اللہ مری نے کیا،چیرمین میونسپل کمیٹی سردار محمد خان خجک نے سپاسنامہ پیش کیا،افتتاحی تقریب میں صوبائی وزراء ،صوبائی سیکرٹریز،سمیت اعلیٰ سطحیٰ آفیسران،قبائلی عمائدین و معتبرین نے شرکت کی تفصیلات کے مطابق سبی کا تین روزہ سالانہ سبی میلہ مویشیاں واسپاں کا باضابطہ افتتاح صوبائی وزیر تعلیم بلوچستان میر نصیب اللہ خان مری نے کیا،افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد خان لہڑی،صوبائی سیکرٹری بلدیات،ایس ایس پی سبی میر دوستین جمالدینی،صوبائی سیکرٹری لائیوسٹاک ارشد بگٹی،رکن صوبائی اسمبلی سردار سر فراز خان ڈومکی کے فرزند سردارزادہ میر کوہیار خان ڈومکی،کمشنر سبی ڈویژن شاہد سلیم قریشی،ڈی آئی جی پولیس سبی رینج منیر احمد شیخ،ڈپٹی کمشنر سبی منصور قاضی،ایس ایس پی محمد یوسف بھنگر،چیئرمین میونسپل کمیٹی سبی سردار محمد خان خجک،چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سبی عبدالحمید ابڑو سمیت قبائلی و سیاسی شخصیت،سیکرٹریز دیگر کے علاوہ خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی،قبل ازیں چیئرمین میونسپل کمیٹی سبی چیف آف خجک سردار محمد خان خجک کے مسائل کے حوالے سے مہمان خصوصی کے سامنے سپاسنامہ پیش کیاافتتاحی تقریب میں کمشنر سبی ڈویژن شاہد سلیم قریشی،ڈپٹی کمشنر منصور قاضی نے مہمانان گرامی کو روایتی پگڑی پہنائی دریں اثناء سالانہ میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری نے کہا کہ روایتی و تاریخی سبی میلہ اپنی رنگینوں اور مسرتوں کے ساتھ شروع ہورہا ہے سبی میلے کے ساتھ ہر وقت یہ امید ضرور موجود رہتی ہے کہ آئندہ سال اس میلہ کی شان و شوکت میں اور اضافہ ہوگا انہوں نے کہا کہ جہاں ہم اس وقت موجود ہیں یہ خطہ تہذیب انسانیت کی ماں کہلاتا ہے یہاں کی تاریخ صرف صحبت سرائے،وکٹوریہ میموریل حال یا میر چاکر قلعہ کی تاریخ ہی نہیں بلکہ مہر گڑھ کی سات ہزار سالہ تاریخ تک پھیلی ہوئی ہے سبی کا میلہ نہ صرف قومی بلکہ بین القومی حوالوں سے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے انہوں نے کہا ہے کہ سبی میلہ برصغیر پاک وہند کی قدیم ترین روایات میں سے ایک ہے اس شہر کی روایات کی پاسداری میں مختلف ادورا میں سربراہاں مملکت و حکومت میں بھی اس میلے کی سرپرستی کی انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں بھی یہ شہر تہی دامن ہونے کے باوجود اپنایت کی وسعت و فروانی کے سبب آپ سب کو اسی طرح خوش آمدید کہتا رہے گا یہ بات تاریخ کے حوالوں کے بغیر ہی ایک مسلمہ امر ہے کہ سبی میلہ عوام الناس کے لئے خوشیوں کا پیغام لانے کے ساتھ ساتھ سماجی و معاشی سر گرمیاں بھی ہمراہ لاتا ہے یہ میلہ ایک تہذہبی ورثہ ہے اور اس کا مقامی معشیت سے بھی گہرا تعلق ہے انہوں نے کہا کہ میں سمجتا ہوں کہ مالداری یہاں کے لوگوں کے زندگی میں ازحد اہمیت کی حامل ہے مویشی اور گلہ بانی کے شعبے کی ترقی کا در اصل مطلب مالدار کی اپنی آمدن میں اضافہ اور اپنے علاقے کی خوشحالی ہے یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی 80فیصدآبادی کا انحصار گلہ بانی پر منحصر ہے جبکہ زراعت کا شعبہ بھی اہمیت کا حامل ہے انہوں نے کہا کہ سالانہ سبی میلہ میں مویشی منڈی و زرعی و صنعتی نمائش مالداری اور زراعت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے انہوں نے کہا کہ سالانہ سبی میلہ مویشیاں واسپاں نہ صرف سبی بلکہ صوبہ بھر کے زرمبادلہ میں اضافے کا باعث بنتا ہے جبکہ میلہ مالداری کے فروغ میں مثبت معاون ثابت ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ سبی میلہ جہاں مالداری اور زراعت کے فروغ کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے وہاں پر چاروں صوبوں کے ثقافتی رنگوں کا بھی مظہر ہے جس میں چاروں صوبوں کی ثقافت کو اجاگر کرکے ملی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور قومی و بین الاقوامی اہمیت کا حامل میلہ ہمیں پیار محبت،بھائی چارئے اور یگانگت کا درس دیتا ہے جس میں موسم بہار کے شروع ہوتے ہی لوگ تفریح اور خریداری کی غرض سے شرکت کرتے ہیں انہون نے کہا کہ غربت ہم جیسی اقوام کی قسمت نہیں تاہم اس کے خاتمے کے لئے مضبوظ اقتصادی ڈھانچے اور معاشی نظام کے لئے ٹھوس بنیادیں درکار ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں معشیت کی بحالی کے لئے ہر ممکن کوشیش کی جارہی ہیں یہ ایک شراکتی عمل ہے معاشرے سے غربت،بد امنی اور ناانصافی کو ختم کرنے کے لئے مجھے آپ کو بلکہ ہم سب کو یک قدم ہونا ہے تاکہ غربت بد امنی اور ناانصافی کی بیخ کنی کرکے ترقی و خوشحالی کو حاصل کیا جاسکے اور صوبائی حکومت ان تمام مسائل کی جانب بھر پور توجہ دے رہی ہے تقریب کے اختتام پر مہمانان گرامی میں شلیڈ اور انعامات تقسیم کئے گئے۔
سالانہ سبی میلہ مویشیاں و اسپاں کا آغاز رنگا رنگ تقریبات سے شروع،میلہ کا افتتاح صوبائی وزیرتعلیم بلوچستان میر نصیب اللہ مری نے کیا

ٹیگز:
سالانہ سبی میلہ
