اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے ازخود نوٹس کے بعد قوم کی نظریں سپریم کورٹ آف پاکستان پر لگی ہوئی ہیں۔ عدلیہ اور بینچ کے اندر تقسیم نے پورے انصاف کے نظام پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔بینچ میں شامل ججز ہی ازخود نوٹس اور اسمبلیوں کے تحلیل ہونے پر اعتراضات اٹھا دئے ہیں۔ان خیالات کااظہار شیری رحمان نے سوموار کے روز ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کیا۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں معزز عدالت سے فل کورٹ بینچ کی تشکیل کا جائز مطالبہ کر رہی ہیں۔ اعلیٰ عدالت فل کورٹ بینچ کی تشکیل دے کر عدلیہ میں تقسیم اور “ہم خیال بینچ” کے تاثر کو ختم کرے۔ آرٹیکل 63 کی تشریح کے معاملے پر بھی فل کورٹ پینچ کے جائز مطالبے کو مسترد کیا گیا تھا۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ملک کے قانون دان، سیاسی جماعتیں اور عام شہری اس فیصلے کو متنازعہ اور آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔اس فیصلے کی وجہ سے ایک جماعت کو فائدہ ہوا اور عدالت میں تقسیم کھل کر سامنے آ گئی۔ایک بار پھر معزز عدلیہ کو اپنا تقسیم شدہ اور متنازعہ تاثر زائل کرنے کی ضرورت ہے۔

