لاہور(ڈیلی گرین گوادر)،قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے راولپنڈی میں خواتین ملزمان کو اڈیالہ جیل سے عدالت لاتے اور واپس لے جاتے ہوئے کئی گھنٹوں تک ہتھکڑیاں لگائے رکھنے کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزمہ ہونا جرم ثابت ہونا نہیں، اور کسی خاتون کی عزت و انسانی وقار کو مجروح کرنا قانون کی حکمرانی نہیں۔ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ہتھکڑیوں کے باعث خواتین کو واش روم، دوپٹہ درست کرنے، پولیس وین میں سوار ہونے اور اہل خانہ سے ملاقات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جو انتہائی افسوناک امر ہے۔
ثمینہ سعید نے کہا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 قانون کے مطابق سلوک، آرٹیکل 9 زندگی و آزادی اور آرٹیکل 14 انسانی وقار کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 خواتین کے لیے خصوصی تحفظ کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ ہتھکڑی کا استعمال بھی محض معمول یا انتظامی سہولت کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون میں مقررہ حالات کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کیا جائے، اور خواتین زیرِ حراست افراد کے لیے ایسا واضح طریقۂ کار وضع کیا جائے جو قانون، انسانی وقار اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
ثمینہ سعید نے کہا: “پاکستان کی عورت کی عزت ریاست کی ذمہ داری ہے؛ ہتھکڑیوں میں جکڑ کر کسی خاتون کی تذلیل کو قانون کا نام نہیں دیا جاسکتا۔انہوں نے وکلاء برادری کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

