کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) حرمت نسواں ویلفیر سوسائٹی کے زیر اہتمام فاطمہ جناح ڈکنیٹی (Dignity) ایوارڈ کی تقریب، نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹراسحاق بلوچ کی تقریب بطور اعزازی مہمان شریک تھے اور شرکاء سے خطاب بھی کیا جبکہ تقریب کے مہمان خصوصی ریٹائرڈ چیف جسٹس سابق گورنر بلوچستان امان اللہ یاسن زئی تھے۔ تقریب میں ایم پی اے شکیلہ نوید بحیثت اعزازی مہمان شریک تھیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے نسواں ویلفیر سوسائٹی کے منتظمین اور بلخصوص حمیدہ ہزارہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے فاطمہ جناح ایوارڈ بلوچستان کے باصلاحیت خواتین کو دینے کا اہتمام کیا۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ فاطمہ جناح پہلی خاتون تھیں جو سیاست میں سرگرم رہی اور 1945 میں صدارتی الیکشن میں ایوب خان کے مقابلے میں الیکشن لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ اسے میرغوث بزنجو، نواب خیربخش مری، سردار عطااللہ مینگل، ولی خان اور عبدالصمد خان اچکزئی کی حمایت حاصل رہی۔ جب وہ بلوچستان ا?ئی تو ہمارے اکابرین نے آمر ایوب خان کے خلاف اسکے الیکشن مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کراچی اور ڈھاکہ سے وہ بھاری اکثریت سے الیکشن جیت گئی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہمیشہ آمروں نے جمہوریت کو پلنے پھولنے نہیں دیا۔ قائداعظم محمدعلی جناح کے وفات کے بعد 1951 تک فاطمہ جناح ایک قسم سے نظربند رہی اور اس پر پابنددی تھی کہ ااپ کسی عوامی اجتماع میں بات نہیں کریں گے۔ اسکے بعد انہوں نے بھائی کی زندگی کے بارے میں کتاب My Brother 1955 میں لکھی لیکن اسکی اشاعت پر آمریت پسند حکمرانوں نے پابندی لگا دی اور یہی کتاب1987 میں چھپی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی عدم استحکام، معاشی زبوں حالی، آئی ایم ایف کی محتاجی حکمرانوں کی ناعاقبت اندیش پالیسوں کا نتیجہ ہے۔ موجودہ بحران سے ملک اس وقت نکل سکتا ہے کہ جب ملک ایک ویلفیر ریاست بنے۔ انہوں نے بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان معاشی اور انتظامی طور پر منظم قومی وحدت ہے کیونکہ ہماری آبادی کم ہے اور وسائل بے پناہ ہے۔ ہمیں تو صرف ریکوڈک ہی کافی ہے۔ دیگر وسائل اور طویل سمندر کے ا?بی وسائل اور مچھلی کی پیداوار سے ہم معاشی طور پر خود کفیل ہوسکتے ہیں لیکن آج حکمرانوں کی نااہلی، لالچ اور کرپشن سے سینکڑوں ٹرالر غیرقانونی طور پر ہمارے سمندر میں فشنگ کرتے ہیں اور انہیں روکنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ ہر مہینے ان سے اربوں روپے رشوت کی صورت میں لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی غربت اور استحصال اس وقت ختم ہوسکتی ہے کہ بلوچستان کے باسی پشتون، بلوچ، ہزارہ اور دیگر اقوام متحد ہوکر نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی شکل میں ایک جماعت میں متحد ہوکر جدوجہد کرے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی طور پر راتوں رات پارٹی بناکر جنکو اقتدار سونپا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ا?ج بلوچستان کے مسائل اور مشکلات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم سے قبل بھی معدنیات صوبوں کے دسترس اور زیرانتظامت تھے لیکن صرف ریکوڈک کو نیلام کرنے کے لئیبلوچستان اسمبلی میں قرارداد پاس کرکے وفاق کے حوالے کیا گیا ہے۔ تقریب کے ا?خر میں انہوں نے حرمت نسواں کے کابینہ کا شکریہ ادا کیا اورمختلف باصلاحیت خواتین کو ایوارڈ تقسیم کیا۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ہمیشہ آمروں نے جمہوریت کو پلنے پھولنے نہیں دیا ، ڈاکٹر اسحاق بلوچ

ٹیگز:
ڈاکٹر اسحاق بلوچ
