کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال سے سابق صوبائی وزیر جمعیت علماء اسلام کے رہنماء مولوی سرور موسیٰ خیل کیقیادت میں موسیٰ خیل کے نمائندہ تمام سیاسی پارٹیوں، سماجی و قبائل ممبران پر مشتمل وفدنے پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔اس موقع پرپشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عبدالقہار ودان، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان، صوبائی آفس سیکرٹری ملک عمر کاکڑ،صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز حفیظ ترین اور نظام عسکربھی موجود تھے۔ وفد میں آگاہ کیا کہ ضلع موسی خیل کے جغرافیائی حدود میں وہاں کے عوام کی مرضی و منشا کے بغیر ردوبدل کسی صورت قابل قبول نہیں۔ یونین کونسل اندرپوڑ اور یونین کونسل راڑاشم موسی خیل کا تاریخی حصہ ہے لیکن فارم سینتالیس کی غیر آئینی و غیر قانونی ناجائز و مسلط صوباء حکومت بالخصوص وزیر اعلیٰ نے اپنے ذاتی مذموم مقاصد کے حصول کے لیے تاریخ کو مسخ کرنے کی کارروائی ہے۔ موسی خیل کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے جسے کسی صورت مسلط ہونے نہیں دیا جائے گا۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی شروع دن سے حکومت کو متنبہ کرتی چلی آرہی ہے کہ پشتون تاریخ اور جغرافیہ کونظرانداز کرکے ہمارے عوام کی مرضی و منشاء کے برخلاف نئے ڈویژنز و اضلاع کے اعلانات کسی صورت قابل قبول نہیں اور نہ ہی عوام مسلط نام نہاد حکومت کی ان اقدامات و اعلانات کو تسلیم کریں گے۔ آج ایک مرتبہ پھرموسی خیل کی صوبائی اسمبلی کے سیٹ کو ختم کیا گیا پھر انھیں کوہ سلیمان ڈویژن میں شامل کر لیا گیا اور اب موسی خیل ضلع کے جغرافیائی حدود سے ان کے تاریخی یونین کونسلوں کو کاٹ کر ضلع بارکھان میں شامل کرنے کے احکامات وہاں کے عوام کی مرضی ومنشا کے بغیر جبری طور پر شامل کیے جارہے ہیں جسکی کسی صورت اجازت نہیں دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد اور جعلی حکمرانوں کا دعویٰ کہ عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے نئے انتظامی حد بندیاں کی جارہی ہیں جبکہ اندرپوڑ اور راڑاشم ضلع ہیڈ کوارٹر موسی خیل سے 61 کلو میٹر پر واقع ہیں اور بارکھان سے 112 کلو میٹر دور ہے لیکن پھر بھی مسلط حکمران اپنے اس طرح کے ناجائز فیصلے عوام پر مسلط کرنے پرقائم ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی تکمیل کے لیے ہر جائز ناجائز فیصلے عوام پر تھونپنے کے لیے بضد ہیں۔انہوں نے کہا کہ ناجائز حکمران اگر عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرسکتی کم ازکم عوام کو مزید مسائل میں نہ الجھائے اور فوری طور پر ضلع موسی خیل کے حدود میں ردوبدل کے اس ناجائز فیصلے کو واپس لیا جائے۔
عوام کی مرضی و منشا کے بغیر ردوبدل کسی صورت قابل قبول نہیں : عبدالرحیم زیارتوال

ٹیگز:
عبدالرحیم زیارتوال
