کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان پروفیسر زاینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن پروگریسیو کے رہنماؤں نے کالج اساتذہ کی ون سٹیپ اپ گریڈیشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اجتماعی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے انٹر و ڈگری گرلز و بوائز کالجز میں خدمات سرانجام دینے والے پروفیسرزو لیکچررز گونا گوں مسائل سے دوچار ہیں سابق دور حکومت میں بی پی ایل اے کے چارٹر آف ڈیمانڈکو جائز قرار دیتے ہوئے ہائیر ایجوکیشن الاؤنس اور دیگر مطالبات کی وزیراعلیٰ نے منظور دے دی تھی لیکن 2020ء میں آنے والی ایسوسی ایشن قیادت نے مطالبات کی منظوری کے عمل کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں، جس کے باعث منظور شدہ مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوسکا، اب نئے سرے سے جدوجہد کرنی ہوگی، کوئٹہ کے کالج اساتذہ اپنے روشن مستقبل کے لئے 24نومبرکو انتخابی نشان مشعل پر مہر لگا کر پروگریسو کو آگے آنے کاموقع دیں ہم بلند وبانگ دعوے نہیں کرتے البتہ یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ کسی بھی مرحلے پر ہم پروفیسرز کا مینڈیٹ افسر شاہی کے سامنے سرینڈر نہیں کریں گے۔ پنجاب، سندھ اورکے پی کے طرز پر بلوچستان کے پروفیسرزکوبھی مراعات اورالاؤنسز دیئے جائیں، ان خیالات کااظہاربی پی ایل اے انتخابات میں پروگریسیو پینل کے صدارتی امیدوار پروفیسرآغا زاہد، جنرل سیکرٹری کے امیدوار پروفیسریاسین بلوچ، پروفیسر عین الدین کبزئی،پروفیسرنصیب اللہ، پروفیسر شہزاد امیر، نائب صدربرائے خواتین پروفیسرہما گل، جوائنٹ سیکرٹری خواتین پروفیسر ماہین شیر، پروفیسر زاہدہ کاکڑ و دیگر نے گورنمنٹ کالج آف فزیکل ایجوکیشن کوئٹہ،گورنمنٹ گرلز کالج کلی شیخان اورگورنمنٹ گرلز کالج سیٹلائٹ ٹاؤن میں پروفیسرز و لیکچررزسے بی پی ایل اے الیکشن کمپین کے سلسلے میں ملاقات کے موقع پر بات چیت اور مشترکہ اخباری بیان میں کیا۔ پروگریسیو پینل کے رہنماؤں کا کہنا تھاکہ بلوچستان کے کالج اساتذہ اس وقت جن مسائل اور مشکلات سے دوچار ہیں ہم ان مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہیں ہم نے دو سال کی قلیل مدت میں عرصہ دراز سے چلے آرہے ان مسائل کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ ان کے حل کے لئے عملی اقدامات بھی سابق دور حکومت میں اٹھائے گئے بی پی ایل اے کی تاریخ میں ہمارے دو سال کے دوران پہلی بار کالج اساتذہ کے مسائل اعلیٰ ترین ایوانوں تک پہنچے ہم نے دو سال کی قلیل مدت میں بیس سال سے نظر انداز مسائل کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ افسر شاہی کو اس بات پر مجبور بھی کیا کہ ان مسائل کا حل نکالا جائے ریسرچ فنڈ، بورڈ آفس، جامعہ بلوچستان میں کالج اساتذہ کے مسائل حل کرنے کا سہرا بھی پروگریسیو ہی کو جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری جگہ آنے والی کابینہ نے بہت سے معاملات کو پینل ازم کی نذر کردیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل تسلیم شدہ مطالبات کا بھی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا جبکہ پچھلے دو سال کے دوران روا رکھی گئی بد ترین غفلت اور چشم پوشی کے باعث نت نئے مسائل کا بھی جنم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 2020ء میں منتخب ہونے والی کابینہ نے دو سال کے دوران کتنے بہترین مواقع ضائع کئے اور کس برے طریقے سے کالج اساتذہ کو وقار اور استحقاق کومجروح کیا اس حوالے سے ہم نے وائٹ پیر بھی جاری کیا ہے جس میں تمام مسائل کا تفصیلی ذکر موجود ہے اس موقع پر انہوں نے تمام کالج اساتذہ کی ون سٹیپ اپ گریڈیشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے کالج اساتذہ کے بنیادی اور انتہائی اہمیت کے حامل کردار کو تسلیم کرے اور ہمیں درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔دریں اثناء بی پی ایل اے پروگریسیو کے مرکزی الیکشن آفس سے جاری ہونے والے بیان میں میدوار برائے جنرل سیکرٹری پروفیسر یاسین بلوچ، پروفیسر عین الدین کبزئی،پروفیسرنصیب اللہ بلوچ،پروفیسر شہزاد امیر،نور اللہ کاکڑ، ظفر اللہ سومرو، عبدالسعید، حافظ محمد اعجاز، محمد تقی،صالح محمد بڑیچ و دیگر نے کہا ہے کہ باقی صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کے کالج اساتذہ بہت زیادہ مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں کالج اساتذہ 24نومبر کو انتخابی نشان مشعل پر مہر لگا کر پروگریسیو پینل کی جیت کو یقینی بنائیں تاکہ نئے عزم کے ساتھ اجتماعی جدوجہد کو آگے بڑھایاجائے پروگریسیو پینل یقین دلاتی ہے کہ کسی بھی مرحلے پر ہم پروفیسرز کا مینڈیٹ افسر شاہی کے سامنے سرینڈر نہیں کریں گے۔
اجتماعی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، ون سٹیپ پروموشن اوردیگرمسائل کا حل نکالا جائے، پروفیسر آغا زاہد

ٹیگز:
پروفیسر آغا زاہد
