لاہور (پریس ریلیز ): سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق ،صدر وسطی پنجاب نازیہ توحید ،صدر لاہور عظمی عمران نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بینکوں میں خواتین کے لیے کسی مخصوص مذہبی لباس، خصوصاً عبایا، کو لازمی قرار نہ دینے سے متعلق سفارش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے اور لباس اختیار کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ خواتین کے مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی تشخص سے متعلق معاملات میں غیر ضروری مداخلت معاشرتی ہم آہنگی کے لیے سودمند نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی ادارے کی ڈریس پالیسی میں باوقار لباس شامل ہو یا کوئی خاتون اپنی دینی وابستگی اور ذاتی پسند کے تحت عبایا یا دیگر اسلامی لباس اختیار کرنا چاہے تو اسے “جبر” کا عنوان دینا مناسب نہیں۔ اسی طرح کسی بھی خاتون کو اس کی مرضی کے خلاف کسی مخصوص لباس پر مجبور کرنا بھی درست نہیں۔ اصل اصول یہ ہونا چاہیے کہ خواتین کی عزت، وقار، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق ہر حال میں محفوظ رہیں۔ ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک مہنگائی، بے روزگاری، معاشی مشکلات، خواتین کے تحفظ، تعلیم اور صحت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، قومی سطح پر خواتین کے لباس کو بحث کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ اور متعلقہ اداروں کو اپنی توانائیاں عوام کے حقیقی مسائل کے حل پر مرکوز کرنی چاہئیں۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی پالیسی کی تشکیل میں آئینِ پاکستان، مذہبی آزادی، خواتین کے بنیادی حقوق اور معاشرتی اقدار کو پیش نظر رکھے اور ایسا کوئی اقدام نہ کیا جائے جس سے باحجاب یا عبایا پہننے والی خواتین میں عدم تحفظ یا امتیازی سلوک کا احساس پیدا ہو۔سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان نے واضح کیا کہ خواتین کو باوقار اسلامی لباس اختیار کرنے کا حق حاصل ہے اور اس حق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی حقیقی آزادی ان کے مذہبی تشخص، وقار اور بااختیار انتخاب کے احترام میں مضمر ہے، مزید برآں ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ، عطیہ نثار ، عفت سجاد ، عائشہ سید، ڈاکٹر زبیدہ جبیں اور ڈپٹی سیکرٹری و نگران میڈیا سیل ثمینہ سعید نے بھی سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی سفارش پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے
خواتین کے باوقار اسلامی لباس کے حق میں کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابل قبول ہے، سینیٹ کمیٹی کی سفارش تشویشناک ہے: ڈاکٹر حمیرا طارق

ٹیگز:
ڈاکٹر حمیرا طارق
