کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں ضلع زیارت کے تاریخی، نایاب اور عالمی شہرت یافتہ صنوبر کے جنگلات، بالخصوص خنڈی سر، پراسپیکٹ پوائنٹ اور گرد و نواح کے علاقوں میں سیکورٹی کے نام پر صدیوں پرانے صنوبر کے درختوں کی ایف سی کی جانب سے مسلسل اور بے دریغ کٹائی پر شدید تشویش، سخت احتجاج اور گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ عمل نہ صرف قدرتی ماحول، قومی ورثے اور تاریخی اثاثوں کی تباہی ہے بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پر ایک سنگین حملہ بھی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ زیارت کے صنوبر کے جنگلات دنیا کے قدیم ترین قدرتی جنگلات میں شمار ہوتے ہیں، جن کی عمر سینکڑوں بلکہ بعض مقامات پر ہزاروں سال تک بتائی جاتی ہے۔ یہ جنگلات صوبے، پشتونخوا وطن اور پورے ملک کی قدرتی، تاریخی، ثقافتی اور ماحولیاتی شناخت کی علامت ہیں۔ ان جنگلات کا تحفظ ریاست، حکومت، محکمہ جنگلات اور متعلقہ اداروں کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی حفاظت کے بجائے انہیں سیکورٹی کے نام پر تباہ کیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ جن علاقوں میں صنوبر کے درخت کاٹے جا رہے ہیں، وہ مکمل طور پر ایف سی کی نگرانی، چیک پوسٹوں اور اپنے قلعوں کے تعمیر کیلئے کاٹے جارہے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں یہ دعویٰ کسی طور قابلِ قبول نہیں کہ متعلقہ ادارے اس عمل سے بے خبر ہیں۔ اگر یہ کٹائی ایف سی کی اجازت یا نگرانی میں ہو رہی ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری ایف سی اور متعلقہ حکام پر عائد ہوتی ہے، اور اگر ان کی اجازت کے بغیر یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو پھر یہ ان کی سنگین غفلت، نااہلی اور اپنی آئینی ذمہ داریوں سے چشم پوشی کا واضح ثبوت ہے۔ دونوں صورتوں میں ذمہ داری سے انکار ممکن نہیں۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی کے نام پر صدیوں پرانے تاریخی صنوبر کے درختوں کی کٹائی کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ ایف سی اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر عوام کے سامنے وضاحت کرنی چاہیے کہ ان جنگلات کی کٹائی کس کے حکم پر کی جا رہی ہے، اس کا قانونی جواز کیا ہے، اور کس اختیار کے تحت قومی قدرتی ورثے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر اس بے دریغ کٹائی کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف زیارت کا منفرد قدرتی حسن ہمیشہ کے لیے تباہ ہو جائے گا بلکہ پورا خطہ شدید ماحولیاتی بحران سے دوچار ہو جائے گا۔ جنگلات کی تباہی سے بارشوں کے قدرتی نظام میں بگاڑ، زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی، مٹی کے کٹاؤ، جنگلی حیات کے خاتمے، فضائی آلودگی میں اضافے، درجہ? حرارت میں غیر معمولی اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات میں کئی گنا اضافہ ہوگا، جس کے تباہ کن اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، ماحولیات کے تحفظ اور قدرتی جنگلات کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری کر رہی ہیں اور اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ صوبے اور بالخصوص زیارت میں سیکورٹی کے نام پر صدیوں پرانے قدرتی جنگلات کا خاتمہ ایک ماحول دشمن، غیر ذمہ دارانہ اور ناقابلِ قبول اقدام ہے، جس کی پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ زیارت کے خنڈی سر، پراسپیکٹ پوائنٹ اور دیگر تمام علاقوں میں صنوبر کے جنگلات کی کٹائی فوری طور پر بند کی جائے۔ ایف سی، محکمہ جنگلات اور دیگر متعلقہ اداروں کے کردار کی مکمل، شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ اس قومی ورثے کی تباہی میں ملوث تمام ذمہ دار اہلکاروں، افسران اور عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ماہرینِ ماحولیات، محکمہ جنگلات، مقامی آبادی، سول سوسائٹی اور آزاد ماہرین پر مشتمل ایک بااختیار نگرانی کمیٹی قائم کی جائے تاکہ جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ جہاں جہاں تاریخی صنوبر کے درخت کاٹے گئے ہیں وہاں فوری طور پر وسیع پیمانے پر شجرکاری کی جائے، ان پودوں کی مستقل نگہداشت کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیا جائے اور جدید سائنسی طریقوں کے مطابق جنگلات کی بحالی کا منصوبہ نافذ کیا جائے۔ زیارت کے صنوبر کے جنگلات کو قومی قدرتی ورثہ قرار دے کر ان کے تحفظ کے لیے
خصوصی قانون سازی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ادارے یا فرد کو کسی بھی بہانے سے اس قدرتی اثاثے کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جا سکے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قدرتی وسائل، جنگلات اور ماحولیات کا تحفظ صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ عوام کی صحت، معیشت، زراعت، سیاحت، آبی وسائل اور آنے والی نسلوں کے حقِ زندگی سے براہِ راست وابستہ معاملہ ہے۔ اس لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قومی ورثے کے تحفظ کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کریں۔ آخر میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر زیارت کے تاریخی صنوبر کے جنگلات کی کٹائی فوری طور پر نہ روکی گئی، ایف سی اور دیگر متعلقہ اداروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں اور اس قومی ورثے کی تباہی میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو پارٹی ہر جمہوری، آئینی اور قانونی فورم پر بھرپور احتجاج کرے گی، عوامی تحریک چلانے کا حق محفوظ رکھتی ہے، اور اس قومی، تاریخی اور ماحولیاتی ورثے کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی۔ زیارت کے صنوبر کے جنگلات صرف درخت نہیں بلکہ پشتونخوا وطن کی تاریخ، ثقافت، شناخت، قدرتی حسن اور آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ ان کا تحفظ ہر ریاستی ادارے، حکومت اور ہر باشعور شہری کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری سے غفلت کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
زیارت کے صنوبر کے جنگلات کی حفاظت کے بجائے انہیں سیکورٹی کے نام پر تباہ کیا جا رہا ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

