کوئٹہ (گرین گوادرنیوز) امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ سیاست، پارلیمنٹ، اسٹیبلشمنٹ و عدلیہ آئین و قرآن و سنت کی پابند ہوجائیں تو ملک آزاد، باوقار ملک کی حیثیت سے اپنا مقام تسلیم کرالے گا۔ سیکولرازم، لبرل ازم پر مبنی پاکستانیت مسائل کا حل نہیں۔ امانت، دیانت، محنت و اہلیت اور قانون و اصول کی پابند قوم ہی پاکستانی امیج کو ٹھیک کرسکتی ہے۔ قومی قیادت کو اپنے قول، تقریروں، دعوؤں کے مطابق عمل بھی کرنا ہوگا۔ دو رنگی اور دو رْخی سماج کے لیے ناسور بنا ہے۔ملک کواسلامی اور بلوچستان کو خوشحال جماعت اسلامی بنائیگی۔ انہوں کہاکہ نے کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے جماعتِ اسلامی ایسے نمائندوں کو لارہی ہے جن میں 1973 کے دستور کی روح کے مطابق کردار و عمل کا جذبہ، اسلامی اور ریاستِ مدینہ کے نظام کی وفاداری، قومی سلامتی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مخلص اور ثابت قدم ہونگے۔ طویل مدت کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے وجود کو تسلیم کرانے کی تگ و دو کررہا ہے، حکومت الیکشن کمیشن کو غلام بناکر رکھنا چاہتی ہے۔ تمام جمہوری قوتوں کو انتخابی اصلاحات پر عملدرآمد اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بااختیار قومی ادارہ بنانے کے لیے غیرمتزلزل حمایت کرنی چاہیے۔ شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات ہی ترقی، استحکام، عزت و وقار کا ذریعہ ہیں۔ دھاندلی زدہ انتخابات ملک کی جڑوں کو کمزور اور سماج کو کھوکھلا بنارہے ہیں۔ دین اور سیاست کے دائرے الگ کرکے اسلام کی ہمہ گیر اور مکمل نظامِ حیات کی اٹل حقیقت سے انحراف کیا گیا ہے۔ سیاست، پارلیمنٹ، معیشت اور ریاستی نظام قرآن و سنت کے تابع کیا جائے۔ یورپ، امریکہ، چین اور عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی ہی تباہی کا سبب ہے۔
سیاست، پارلیمنٹ، اسٹیبلشمنٹ و عدلیہ آئین و قرآن و سنت کی پابند ہوجائیں، مولانا عبدالحق ہاشمی

ٹیگز:
مولانا عبدالحق ہاشمی
