کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کی جانب سے 4 جون کو جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ، سریاب روڈ پر اپنے جائز اور قانونی مطالبات کے حق میں ایک پرامن احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا تھا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وائس چانسلر نے پولیس کے ذریعے اس پْرامن احتجاجی کیمپ کو اساتذہ کی غیر موجودگی زبردستی اکھاڑ دیا، جس کی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ نااہل وائس چانسلر 2022 سے ریٹائر ہونے والے اساتذہ اور ملازمین کو پینشن، کمیوٹیشن، لیو انکیشمنٹ اور جی پی فنڈ کی ادائیگی یقینی بنانے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کی اپ گریڈیشن، منظور شدہ خالی آسامیوں پر تقرریاں، یونیورسٹی کالونی میں مینٹیننس کے نام پر 5 فیصد غیر قانونی کٹوتی کے باوجود بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے اہم مسائل بھی بدستور حل طلب ہیں۔بیان میں کہاگیا کہ یوٹیلٹی، اردلی و دیگر الاونسسز کو بھی غیر قانونی طور پر ختم کیا گیا ان مسائل کی حل کے بجائے احتجاجی کیمپ کا خاتمہ نا اہل وائس چانسلر کی غیر جمہوری روش کی عکاسی کرتا ہے۔ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن اس اقدام کو اساتذہ و ملازمین کے آئینی اور جمہوری حقوق پر قدغن قرار دیتی ہے۔ بیان میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبے کی 12 جامعات کیلئے اپنے سالانہ بجٹ میں 15 ارب اور جامعہ بلوچستان کے ریٹائر ڈ اساتذہ کرام و ملازمین کی پینشن کموٹیشن اور لیو انکیشمنٹ کے لئے خصوصی پیکیج جاری کریں اور وفاقی حکومت ملک بھر کی جامعات کی ریکرنگ بجٹ کیلئے سالانہ 200 ارب روپے مختص کریں تمام اساتذہ کرام و ملازمین سے اپیل کی جاتی ہے کہ اپنے جائز حقوق کے لئے جاری پرامن احتجاج میں شرکت کریں اور آئندہ کے احتجاجی پروگرام میں بھرپور انداز میں شرکت کریں۔ دریں اثناء5 جون بروز جمعہ کو بھی اساتذہ نے اپنے جائزحقوق کے لئے اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا
اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے مسائل کی حل کے بجائے احتجاجی کیمپ کا خاتمہ نا اہل وائس چانسلر کی غیر جمہوری روش کی عکاسی کرتا ہے، اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان

ٹیگز:
اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن
