کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن، یونیورسٹی آف بلوچستان کی جنرل باڈی کا ایک اہم اجلاس آج بروز سوموار یونیورسٹی کے مرکزی آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اساتذہ کے لیے صبح اور شام بایو میٹرک حاضری کو لازمی قرار دینے کے فیصلے پر تفصیلی غور و خوض کرنا تھا۔اجلاس کی صدارت ایسوسی ایشن کے صدر، پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ باریچ نے کی۔ اس موقع پر ایسوسی ایشن کی کابینہ کے اراکین کے علاوہ اساتذہ کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی، جن میں خواتین اساتذہ کی نمایاں نمائندگی بھی شامل تھی، جو اس معاملے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔اجلاس کے دوران مقررین نے بایو میٹرک حاضری کے مجوزہ نظام پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا۔ اساتذہ کا متفقہ مؤقف تھا کہ انہیں صبح 9 بجے اور شام 4 بجے حاضری لگانے کا پابند بنانا نہ صرف غیر مناسب بلکہ تدریسی پیشے کی نوعیت کے بھی خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک استاد کی اصل کارکردگی اس کی تدریسی ذمہ داریوں، کلاس روم میں حاضری اور تحقیقی سرگرمیوں سے جڑی ہوتی ہے، نہ کہ اسے کسی صنعتی ادارے کے کارکن کی طرح دن میں دو مرتبہ حاضری دینے پر مجبور کیا جائے۔مزید برآں، موجودہ سیکیورٹی صورتحال، جس میں شہر کے حالات مکمل طور پر تسلی بخش نہیں ہیں، اور حکومت کی جانب سے جاری کفایت شعاری مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے، اساتذہ نے بایو میٹرک نظام کے نفاذ کو مزید مشکلات کا باعث قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس سے تعلیمی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔تفصیلی اور طویل بحث کے بعد اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی، جس کے تحت اساتذہ نے بایو میٹرک حاضری نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے پایا کہ اساتذہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں، بالخصوص تدریسی اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی حاضری کو یقینی بنائیں گے، جبکہ کلاس اٹینڈنس کو ہی اصل حاضری تصور کیا جائے گا، جیسا کہ یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے فیصلوں میں بھی اس کی وضاحت موجود ہے۔اجلاس کے شرکاء نے وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ سے پْرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس پالیسی پر نظرثانی کریں اور اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے ساتھ بامعنی مشاورت کے ذریعے ایسا متوازن اور قابلِ قبول حل تلاش کریں جو نہ صرف اساتذہ کے تحفظات کو دور کرے بلکہ سینڈیکیٹ کے طے شدہ اصولوں سے بھی ہم آہنگ ہو۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اساتذہ بایو میٹرک حاضری کے نفاذ کو قبول نہیں کریں گے۔ مزید یہ طے کیا گیا کہ اساتذہ کی حاضری کا ریکارڈ متعلقہ شعبہ جات کے سربراہان (ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ) اور ڈین صاحبان کلاس روم میں تدریسی سرگرمیوں اور تحقیقی کارکردگی کی بنیاد پر مرتب کریں گے۔
اساتذہ کو صبح 9 بجے اور شام 4 بجے حاضری لگانے کا پابند بنانا نہ صرف غیر مناسب بلکہ تدریسی پیشے کی نوعیت کے بھی خلاف ہے،اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن

ٹیگز:
اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن
