لورالائی(ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی لورالائی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لورالائی یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر، جو کرپشن، نااہلی اور غیر قانونی اقدامات کی بدترین مثال بن چکے ہیں، نے اپنے دورِ تعیناتی میں ادارے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کی پالیسیوں نے یونیورسٹی، تعلیم، طلبہ، اساتذہ اور ملازمین سب کو متاثر کیا ہے۔طلباء کیلئے تعمیر شدہ ہاسٹلز تاحال حوالے نہیں کیے جا رہے، اساتذہ کے ساتھ امتیازی سلوک اور انتقامی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ طلباء و طالبات کیلئے لیپ ٹاپ اور اسکالرشپ میں کھلے عام کرپشن اور میرٹ کی پامالی ہو رہی ہے۔ فیسوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں کمی کر دی گئی ہے۔ نئی تعیناتیوں میں سفارش، اقربا پروری اور میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں، جبکہ ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کرنے کے بجائے رشوت اور سفارش پر نئی بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔یونیورسٹی کا ماحول اس قدر خراب کر دیا گیا ہے کہ یہ تعلیمی ادارہ کم اور جیل زیادہ محسوس ہوتا ہے، جہاں طلباء و طالبات قیدیوں اور اساتذہ و ملازمین سیکیورٹی گارڈز کی مانند بنا دیے گئے ہیں۔ گزشتہ اور حالیہ لیپ ٹاپ اسکیموں میں کرپشن اور میرٹ پامالی کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اسی طرح ترقیاتی کاموں میں کرپشن اور غیر معیاری تعمیرات پر بھی متعلقہ حکام کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔مزید برآں، موجودہ وائس چانسلر کی کنٹریکٹ مدت بھی ختم ہو چکی ہے، اس کے باوجود عہدے پر برقرار رہنا غیر قانونی اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس غیر قانونی وائس چانسلر کو عہدے سے فارغ کیا جائے اور میرٹ، شفافیت اور اہلیت کی بنیاد پر نئے وائس چانسلر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ بصورتِ دیگر، پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن لورالائی دیگر طلبہ تنظیموں کے ساتھ مل کر سخت اور بھرپور احتجاج کا اعلان کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
لورالائی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی کنٹریکٹ مدت ختم ہو چکی ہے،انہیں فوری فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

