کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں صوبائی حکومت کی طرف سے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شاہراہوں، ڈویژنوں اور اضلاع کو غیر فطری اور غیر متعلقہ ناموں سے منسوب کرنے اور اضلاع کو دیگر علاقوں میں شامل کرنے کے حالیہ فیصلوں پر شدید تشویش اور بھرپور احتجاج کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک جانب صوبے کے حکمران طبقے کی طرف سے بھائی چارے، باہمی احترام اور برادر اقوام کے ساتھ صدیوں سے پرامن بقائے باہمی کے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب عملی اقدامات میں پشتون عوام کے جائز حقوق اور تاریخی شناخت کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ حالیہ عرصے میں نئے ڈویژنوں اور اضلاع کی تشکیل کے دوران اختیار کیے گئے متعصبانہ اور غیر متوازن رویے نے پہلے ہی عوام میں بے چینی اور اضطراب کو جنم دیا تھا۔ اب کوئٹہ جیسے قدیم اور تاریخی شہر، جو صدیوں سے پشتون عوام کا ایک اہم ثقافتی، سماجی اور سیاسی مرکز رہا ہے، میں شاہراہوں، چوکوں اور ترقیاتی منصوبوں کو ایسے نام دیے جا رہے ہیں جو نہ صرف اس خطے کی تاریخ اور جغرافیائی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ مقامی آبادی کے جذبات اور احساسات کی بھی صحیح نمائندگی نہیں کرتے۔اسی تناظر میں سی پیک روڈ پر جاری ترقیاتی منصوبے کو کوئٹہ کے تاریخی عوام اور قبائل کے بجائے غیر متعلقہ شخصیات یا غیر فطری حوالوں سے منسوب کرنا ایک انتہائی نامناسب اور متعصبانہ اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔ پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ پارٹی کے نزدیک تمام اقوام اور شخصیات قابلِ احترام ہیں، تاہم کوئٹہ اور اس کے گردونواح کی تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی شناخت کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے نام مسلط کرنا کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔بیان میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی کہ مذکورہ شاہراہ( سی پیک ) دراصل سابقہ دورِ حکومت میں منظور کی گئی تھی اور اسی وقت اس کے لیے فنڈز کی منظوری، منصوبہ بندی اور دیگر اہم انتظامی مراحل مکمل کیے گئے تھے۔ اگر اوس وقت کے حکمران چاہتے تو اس منصوبے کو اپنے نام یا کسی قریبی شخصیت کے نام سے منسوب کر سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا کرنے کے بجائے ایک متوازن اور بردبار طرزِ عمل اختیار کیا، جسے عوامی مفاد اور اجتماعی ہم آہنگی کے تناظر میں سراہا گیا تھا۔بدقسمتی سے موجودہ پشتون دشمن صوبای حکومت کی جانب سے اس فیصلے کو جس انداز میں نافذ کیا جا رہا ہے، وہ پشتون عوام کے ساتھ ایک غیر مناسب، متکبرانہ اور غیر جمہوری رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کوئٹہ کے باشعور اور سیاسی طور پر متحرک شہری اس طرزِ عمل کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اور اپنی تاریخی شناخت کے تحفظ کے لیے ہر آئینی و جمہوری راستہ اختیار کریں گے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے حکومتِ وقت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر فوری طور پر نظرثانی کی جائے اور متعلقہ شاہراہ سی پیک یا منصوبے کو ایسا نام دیا جائے جو کوئٹہ کی تاریخ، جغرافیہ اور وہاں آباد پشتون و بلوچ دونوں برادر اقوام کے لیے قابلِ قبول، باوقار اور نمائندہ حیثیت رکھتا ہو۔پریس ریلیز کے اختتام پر خبردار کیا گیا کہ اگر حکومت نے اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو کوئٹہ کے عوام اپنے آئینی اور قانونی حقوق کا استعمال کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کریں گے اور اس فیصلے کے خلاف باقاعدہ آئینی پٹیشن دائر کی جائے گی۔
پشتون عوام کے جائز حقوق اور تاریخی شناخت کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

