کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کے خلاف جاری سوشل میڈیا پروپیگنڈہ مہم پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نااہل اور بے اختیار حکمران جھوٹ، کردار کشی اور من گھڑت بیانیوں کے ذریعے بلوچستانی عوام کو مزید دھوکہ نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا کہ جب بھی بلوچ سیاسی اسیران کی رہائی، لاپتہ افراد کے مسئلے یا بلوچستان کے آئینی حقوق کی بات کی جاتی ہے تو حکومتی ایوانوں میں بیٹھے عناصر گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جھوٹ، اشتہاری مہمات اور میڈیا مینجمنٹ سے مسائل حل ہوتے تو آج بلوچستان بدامنی، بیروزگاری اور محرومیوں کی علامت نہ بنتا۔ آغا حسن بلوچ نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی ترجیح عوامی خدمت نہیں بلکہ وسائل پر قبضہ اور اقتدار کا تحفظ ہے۔ انہوں نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہیں غیر محفوظ ہیں، عوام خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں، اور حکومتی اتحادی بھی کھلے عام اعتراف کر رہے ہیں کہ زمینی حقائق حکومتی دعوؤں کے برعکس ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق دورِ حکومت، خصوصاً عمران خان کے دور میں جو ترقیاتی فنڈز پارٹی کے منتخب نمائندوں کو ملے، وہ عوامی منصوبوں پر خرچ ہوئے اور ان کے ثمرات زمینی سطح پر موجود ہیں۔ اس کے برعکس موجودہ حکومت صرف تقاریر، نمائشی بیانات اور من پسند افراد کو آگے لا کر عوامی شعور کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیکیورٹی بیانیوں یا طاقت کے استعمال سے حل نہیں ہوگا، بلکہ سیاسی مکالمے، آئینی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام سے ہی پائیدار حل ممکن ہے۔ جو عناصر مسلسل ناکامی کے باوجود اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں انہیں اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اب باشعور ہو چکے ہیں، وہ جھوٹے وعدوں، وقتی نعروں اور کردار کشی کی سیاست سے متاثر نہیں ہوں گے اور اپنے حقوق کیلئے سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے
نااہل اور بے اختیار حکمران جھوٹ، کردار کشی اور من گھڑت بیانیوں کے ذریعے بلوچستانی عوام کو مزید دھوکہ نہیں دے سکتے،آغا حسن بلوچ

ٹیگز:
آغا حسن بلوچ
