کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین(سی بی اے) کے میٹر ریڈنگ اسٹاف کا اجلاس زیر صدارت مرکزی جوائنٹ صدر و صوبائی چیئرمین محمد رمضان اچکزئی منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جس کے بعد میٹر ریڈنگ اسٹاف کے کوآرڈنیٹر خان محمد نے میٹر ریڈنگ اسٹاف کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں کیسکو کے آفیسران کا دباؤ ہے کہ جو میٹرز خراب ہیں اس پر یونٹس چارج کیے جائیں، تمام صارفین سے شناختی کارڈ نمبرلائے جائیں،جبکہ میٹر ریڈنگ کیلئے موبائل ناکارہ ہو چکے ہیں اور کئی مہینوں سے نئے موبائل میٹر ریڈرز کو نہیں دیئے جارہے اور ہر مہینے ریڈنگ کیلئے نئے سافٹ ویئر دیئے جارہے ہیں جو کہ موجودہ موبائل کے ذریعے صحیح ریڈنگ نہیں لیا جاسکتا۔ میٹر ریڈنگ اسٹاف کو آفیسران کی طرف سے غیر قانونی دباؤ میں رکھنے کیلئے شوکاز نوٹسز دیئے جاتے ہیں جبکہ میٹر ریڈرز اور بل ڈسٹری بیوٹرز اسٹاف کی آدھی سے زیادہ آسامیاں خالی ہیں اور ایک میٹر ریڈرسے 02 اور 03 میٹر ریڈرز کا کام لیا جارہا ہے جس کی وجہ سے میٹر ریڈنگ اسٹاف سے ریڈنگ کی غلطیاں سرزد ہو رہی ہیں اس لیے میٹر ریڈنگ اسٹاف کی کمی کو پورا کیا جانا کیسکو انتظامیہ کی ذمہ داری ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 56 سب ڈویژنز میں MRSS کی 56 پوسٹیں اور ہر سب ڈویژن میں ایک MS-Iیا MS-II کی پوسٹ ہونی لازمی ہے۔ اسی طرح سے صارفین کے کنکشن کی تعداد کے حساب سے میٹر ریڈر اور بل ڈسٹری بیوٹرز کا ہونا بھی ضروری ہے۔ دور دراز علاقوں کیلئے میٹر ریڈنگ کیلئے موٹر سائیکل مہیا کرنا اور میٹر ریڈرز کو بروقت پروموشن اور اپ گریڈ ایشن دیناانتظامیہ کی ذمہ داری ہے لیکن اکتوبر 2025 کے مہینے سے اب تک میٹر ریڈنگ اسٹاف کے پروموشن اور اپ گریڈ ایشن نامکمل ہے جبکہ نچلے اسٹاف کی ترقیوں اور پروموشن کے اس رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں جبکہ آفیسروں کے آئے روز پروموشن اور اپ گریڈ ایشن انھیں ٹی اے، ڈی اے اور الاؤنسز بھی بروقت دیئے جاتے ہیں جبکہ میٹر ریڈنگ اسٹاف کے بقایا جات عرصہ دراز سے رکاؤٹوں کا شکار ہے۔ دیہی علاقوں کے میٹر ریڈنگ اسٹاف کے پاس موٹر سائیکل کا ہونا ضروری ہے لیکن کیسکو انتظامیہ مسائل حل کرنے کی بجائے زور زبردستی میٹر ریڈنگ اسٹاف سے کام لے رہے ہیں جس سے ریڈنگ اسٹاف ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سی بی اے یونین کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیاہے۔ اس موقع پر اجلاس سے یونین کے مرکزی جوائنٹ صدر و صوبائی چیئرمین محمد رمضان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومتی اور ماضی کے انہی حکمرانوں نے ملک کے سب سے فعال ادارے واپڈا کو تقسیم درتقسیم کرکے اس میں باہر سے بورڈ کے چیئرمین اور ممبران کو سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر تعینات کرکے پاور کمپنیوں میں سیاسی مداخلت کے بعد آج پاور سیکٹر کی یہ کمپنیاں تباہی کے کنارے پہنچ گئی ہیں۔ ان حکمرانوں نے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کے تحت آئی پی پیز سے ڈالر کے نرخ میں مہنگے داموں بجلی کی خریداری کے معاہدے کرنے، بجلی نہ لینے کی صورت میں 60 فیصد کیپسٹی چارجز ان پرائیویٹ مالکان کودینے کے ساتھ ساتھ کوئلہ، گیس، فرنس آئل اور ایندھ معاہدے کے دن والی ریٹ سے فراہمی کے ظالمانہ معاہدے کیے اور آج کھربوں روپے ان مالکان کو مہنگی بجلی دینے یا نہ دینے کی صورت میں دیئے جارہے ہیں۔ حکمرانوں نے قطر سے گیس کے معاہدے، ایران سے گیس پائپ لائن کے معاہدے، امپورٹ، ایکسپورٹ میں گندم، چینی اورخوردنی اشیاء کے دیگر معاملات میں ہر سال کھربوں روپوں کا نقصان اس ملک کو پہنچا رہے ہیں۔ حکمرانوں کی پالیسی دیکھے کہ جو صارفین نیٹ میٹرنگ کے ذریعے آدھی سے کم قیمت پاور سیکٹر کو بجلی فراہم کر رہی ہے ان پر گھیرا تنگ کرکے اپنی پالیسی کے برخلاف بجلی کے خریدنے میں کمی لارہے ہیں یا اس پالیسی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ملک کے غریب صارفین، صنعتکاروں ِ، تجارتی اداروں کے صارفین کو ذلیل کرکے ان کو مہنگے داموں بجلی اس لیے دے رہے ہیں کہ آئی پی پیز کے حکمران طبقے کے رشتہ داروں، دوستوں، ساتھیوں اور طاقتوروں کو بجلی لیے بغیر رقوم دینے کا بندوبست جاری رہے۔ انہوں نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ پاور سیکٹر کی نجکاری کرنے کی بجائے پاور سیکٹرکا انتظام واپڈا کے فعال ادارے کے حوالے کیا جائے تاکہ واپڈا اتھارٹی کے ذریعے دوبارہ سے پاور سیکٹر کے معاملات کا جائزہ لے کر ری اسٹیکچر نگ کے ذریعے پاور سیکٹر کے نقصانات کو کم کرنے اور ملک کے اس اہم ادارے کو فعال بنا کر 24 گھنٹے سستی بجلی دینے کی راہ پر گامزن کیا جاسکے تاکہ ملک میں صنعت، تجارت، زراعت کی ترقی ہو اور گھریلو صارفین کے معیار زندگی میں بہتری آسکے۔
پاور سیکٹر کی نجکاری کرنے کی بجائے پاور سیکٹرکا انتظام واپڈا کے فعال ادارے کے حوالے کیا جائے،اجلاس سے محمد رمضان اچکزئی اوردیگر کاخطاب

ٹیگز:
رمضان اچکزئی
