لاہور (ڈیلی گرین گوادر) ایران کے جوہری عدمِ پھیلاؤ کے نظام کے تحت حقوق اور فرائض‘‘ کے عنوان سے ایک گول میز مذاکرہ منعقد کیا۔ ایک خود مختار تھنک ٹینک کی حیثیت سے کَیس لاہور ایسے علمی مباحث کا انعقاد جن میں بین الاقوامی تعلقات کے وسیع تر تناظر سے دلچسپی رکھنے والے محققین اور پالیسی ماہرین شریک ہوتے ہیں۔ اس نشست میں ممتاز اہلِ علم اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔ افتتاحی کلمات محترمہ ماہیرا منیر، ریسرچ اسسٹنٹ سی اے ایس ایس لاہور، نے پیش کئے۔ سمیر علی خان، جو جوہری اور تزویراتی امور کے معروف ماہر ہیں، نے ایران کے قانونی حقوق اور ذمہ داریوں کا جامع تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ عدمِ پھیلاؤ کا معاہدہ بنیادی طور پر پانچ بڑی طاقتوں تک جوہری اسلحہ محدود رکھنے اور اس کی افقی توسیع کو روکنے کے لئے ترتیب دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدہ پامال نہیں کیا بلکہ اس نے اس کے اندر موجود دراڑیں اور خامیاں کھول کر سامنے رکھ دی ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کی جوہری تنصیبات پر طویل المدتی حملوں کے اثرات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی اور اس امر پر زور دیا کہ عالمی سطح پر یکساں اصولوں اور این پی ٹی میں سنجیدہ اصلاحات کے بغیر عدمِ استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔اختتامی کلمات میں صدر کَیس لاہور ایئر مارشل عاصم سلیمان ریٹائرڈ نے بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے ماحول میں عدمِ پھیلاؤ کے نظام کو درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر ۲۰۲۵ میں جے-سی-پی-او اے کی مدت پوری ہونا ایک نہایت اہم موڑ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی جوہری عدمِ پھیلاؤ کا ڈھانچہ ایک اجتماعی عالمی اثاثہ ہے۔ این پی ٹی کی بقا اسی وقت ممکن ہے جب اسے غیر جانب دارانہ طور پر نافذ کیا جائے، اس کی پاسداری ہر جگہ یقینی ہو اور ریاستیں حقیقی سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں۔
ایران کے جوہری عدمِ پھیلاؤ کے نظام کے تحت حقوق اور فرائض‘‘ کے عنوان سے گول میز مذاکرہ

ٹیگز:
ایران
