کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (BUMHS) کوئٹہ میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے 350 طلباء پر مشتمل پہلے بیچ کے لیے Orientation Day گزشتہ روز منعقد ہوا، جس میں طلباء کو پروگرامز کے اسکوپ، کلینیکل تربیت اور مستقبل کے روزگار کے مواقع سے آگاہ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق بلوچستان میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے شعبے میں یہ اب تک کی سب سے بڑی انڈکشن ہے۔تقریب کے دوران طلباء کو فزیوتھراپی، لیبارٹری ٹیکنالوجی، امیجنگ ٹیکنالوجی، آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجی، کارڈیک، ڈینٹل اور دیگر الائیڈ پروگرامز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ فیکلٹی اراکین نے تعلیمی نظام، کورس اسٹرکچر اور کلینیکل اٹیچمنٹس پر خصوصی روشنی ڈالی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق تمام پروگرامز کی عملی تربیت سول ہسپتال کوئٹہ اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں کرائی جائے گی۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شبیراحمد لہڑی نے کہا کہ بلوچستان میں الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی شدید کمی کے باعث ہسپتالوں، ڈائگناسٹک مراکز اور ریہیبلیٹیشن یونٹس کو تربیت یافتہ عملے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (BUMHS) کوئٹہ کے اس اقدام سے نہ صرف صوبے کے ہیلتھ سیکٹر میں بہتری آئے گی بلکہ نوجوانوں کے لیے باوقار روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔تقریب میں طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور یونیورسٹی کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کو سراہا۔ یونیورسٹی اعلامیے کے مطابق نئے داخل شدہ بیچ کی کلاسز 24 نومبر 2025 سے باقاعدہ طور پر شروع ہوں گی۔
بولا ن یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسزمیں طلباء کو پروگرامزکے اسکوپ،کلینکل تربیت اور مستقبل کے روزگارکے حوالے سے آگاہی پروگرام

ٹیگز:
بولا ن یونیورسٹی
