اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش، اور نچلے دریا کے حقوق غصب کرنے کو جنگی عمل تصور کیا جائے گا اور قومی طاقت کے پورے دائرے میں پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو پیش آئے واقعے کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا، کمیٹی نے بھارتی الزامات مسترد کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے کسی بھی آبی جارحیت کو جنگی اقدام قرار دیا ہے۔کمیٹی نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد، سیاسی مقاصد پر مبنی اور غیر ذمہ دارانہ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازع علاقہ ہے اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت ملنا چاہیے۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی اعلان کو مسترد کر دیا۔ کہا گیا کہ پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا قومی مفاد ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔اسی طرح پاکستان نے واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف موجودہ اجازت نامہ رکھنے والے افراد کو 30 اپریل تک واپس جانے کی مہلت دی گئی ہے۔
سارک ویزا استثنیٰ اسکیم کے تحت بھارتی شہریوں کو جاری تمام ویزے معطل کر دیے گئے، صرف سکھ یاتریوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد میں تعینات بھارتی بحری، فضائی اور دفاعی مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر 30 اپریل تک ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پاکستانی فضائی حدود تمام بھارتی یا بھارتی کمپنیوں کی پروازوں کے لیے بند کر دی گئی ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے، چاہے تیسرے ملک کے ذریعے ہو۔
قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستان دہشتگردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے اور اس کے خلاف فرنٹ لائن ریاست رہا ہے، پہلگام حملے کے حوالے سے بے بنیاد بھارتی الزامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، پاکستان کے پاس گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعتراف سمیت بھارتی ریاستی دہشتگردی کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں۔قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، بھارت کا حالیہ رویہ دو قومی نظریے کی سچائی اور قائد اعظم محمد علی جناح کے خدشات کی تصدیق کرتا ہے۔واضح رہے کہ پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کرتے ہوئے اٹاری واہگہ بارڈر بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی زیرصدارت کابینہ اجلاس کے بعد ترجمان وزارت خارجہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تمام پاکستانیوں کے بھارتی ویزے منسوخ کردیے ہیں اور تمام پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑے کا حکم دے دیا ہے۔بھارت کے سیکریٹری خارجہ وکرم مسری پریس کانفرنس میں آبی معاہدے اور سرحد کی بندش کے حوالے سے اعلان کرتے ہوئے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہائی کمیشن کو 7 روز میں بھارت چھوڑنا ہوگا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ایئرفورس و نیوی کے اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا ہے جبکہ بھارتی دفاعی اتاشی کو بھی پاکستان سے واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
1960 وزارت خارجہ ترجمان کا کہنا تھا کہ سندھ آبی معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک کہ پاکستان قابل اعتبار اور اٹل طور پر سرحد پار دہشتگردی کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو جاتا۔ترجمان نے کہا کہ انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ اٹاری کو فوری طور پر بند کر دیا جائے گا اور جو لوگ درست توثیق کے ساتھ پار کر چکے ہیں وہ یکم مئی 2025 سے پہلے اس راستے سے واپس آ سکتے ہیں۔ ترجمان نے پاکستانیوں کو سارک کے تحت دیے جانے والے ویزے بھی بند کرنے کا بھی اعلان کردیا۔

