کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں زرعی ٹیکس کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فارم47کے حکمرانوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان کے تمام طبقہ فکر کے ساتھ ان کا ناروا سلوک جاری ہے بلوچستان کے غیور عوام، زمیندارمعاشی تنگ دستی کا شکار ہیں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر ہے رہی سہی کسر زرعی ٹیکس کے نفاذ کے ساتھ پورا کیا جا رہا ہے جو معاشی قتل کے مترادف عمل ہے بی این پی نے زرعی ٹیوب ویلز کو سولرئزیشن میں تبدیل کرنے کیلئے بھرپور آواز بلند کی ٹیوب ویل کی شمسی پر منتقلی کا عمل سست روی کا شکار ہے جو قابل تشویش ہے آئے روز غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، بھاری بھر کم بلز، زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ سے زمیندار فاقہ کشی تک پہنچ چکے ہیں زرعی ٹیکس آئی ایم ایف کے کہنے پر زمیندار کو مسائل کو نظر انداز کر کے لگایا گیا ہے حکومت کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں لفاظی حد تک معاملات کو بہتر گردانا جا رہا ہے بی این پی قیادت نے زمینداروں کی ہمیشہ سیاسی و اخلاقی حمایت کی ہے اور ان کے حقوق کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ رہے ہیں اور رہیں گے فوری طورپر سولرئزیشن پر ٹیوب ویلز کو منتقلی کیا جا ئے زرعی ٹیکس کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بارڈر کھولنے کیلئے اقدامات کئے جائیں بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے آئے روز شہریوں کے معاشی استحصال، قبضہ گیری سمیت دیگر اقدامات قابل مذمت ہیں پارٹی ہر فورم پر عوام کو حقوق، مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کرتی رہے گی عوام کی بدحالی کی جانب دھکیلنے کی بجائے خوشحالی کی جانب لے جانے کیلئے اقدامات کئے جائیں اسلام آباد کے ایوانوں میں بلوچستان کے مسائل پر خاموشی باعث تشویش ہے-
صوبائی حکومت کی جانب سے زرعی ٹیکس کانفاذ قابل مذمت ہے،بی این پی

ٹیگز:
بی این پی
