اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)قومی اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چئیرمین شپ کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل اور وفاقی حکومت میں تاحال اتفاق نہ ہوسکا جس کے بعد اہم پارلیمانی عہدہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو دیے جانے پر غور شروع کردیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے نامزد کردہ رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم کو متوقع طور پر ملنے والی پوزیشن خطرے میں پڑ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پی ایسی چئیرمین شپ کا عہدہ بھی سنی اتحاد کونسل کے ہاتھ سیجانے کا امکان ہے، پی اے سی چئیرمین شپ کے لیے سنی اتحاد اور حکومت میں تاحال اتفاق نہ ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عدم اتفاق کے باعث حکومت نے پی اے سی کی چئیرمین شپ پیپلز پارٹی کو دینے پر غور شروع کردیا ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی اے سی کا چئیرمین پہلی مرتبہ باقاعدہ ووٹنگ سے بنائے جانے کا امکان ہے، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق ماضی میں کبھی چیئرمین پی اے سی کیعہدے کے لیے ووٹنگ نہیں ہوئی۔
ووٹنگ کرائے جانے کی صورت میں حکومت باآسانی اپنے کسی بھی نامزد رکن اسمبلی کو چیئرمین منتخب کروالیگی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں حکومت کے 16 اور اپوزیشن کے 8 ارکان کی شمولیت کا امکان ہے۔
رواں ماہ کے شروع میں پی ٹی آئی نے پی اے سی کے چیئرمین کے عہدے کے لیے شیر افضل خان مروت کی جگہ شیخ وقاص اکرم کو نامزد کردیا تھا، عمر ایوب کی سربراہی میں 19 رکنی کمیٹی میں سے 9 نے شیخ وقاص کو، 7 نے افضل مروت کو ووٹ دیا تھا۔

