تربت(ڈیلی گرین گوادر) سابق صوبائی وزیر وسابق سینیٹر، نامور سیاسی رہنما مرحوم میرمحمد علی رند کی پہلی برسی رند فیملی مکران ڈویژن کی جانب سے رندہاؤس تربت میں عقیدت واحترام کے ساتھ منائی گئی۔پہلی برسی کی مناسبت سے رندہاؤس تربت میں ایک بڑا تعزیتی جلسہ منعقد کیاگیا جس میں پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر میرچنگیز خان جمالی، نیشنل پارٹی کے قائد سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ،صوبائی مشیر پی ایچ ای لالا رشیددشتی، رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی سمیت سابق ارکان اسمبلی، مختلف سیاسی پارٹیوں کے مرکزی وعلاقائی رہنما، مند، دشت، بل نگور، گوادر، پسنی، اورماڑہ، بلیدہ زامران ودیگر علاقوں سے کثیرتعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔مقررین نے اپنے اپنے خطاب میں مرحوم میر محمد علی رند کی سیاسی، سماجی، عوامی خدمات پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کی اورکہاکہ مرحوم میرمحمد علی رند مکران ڈویژن میں عوامی سیاست کے بانی ہیں میر محمد علی رند وہ واحد سیاسی لیڈر ہیں جنہیں خواص کے بجائے عام لوگوں میں زیادہ مقبولیت اورپزیرائی حاصل ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر میر چنگیز خان جمالی نے کہاکہ مرحوم میرمحمد علی رند کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم میرمحمد علی رند کے ساتھ میری پرانی یادیں وابستہ ہیں، مرحوم سے میری شنائی میرے والد مرحوم میرتاج محمد جمالی کے دور وزارت اعلیٰ سے رہی ہے، وہ میرے والد مرحوم کی کابینہ میں وزیر رہے ہیں اور اپنے والد کے ہمراہ میرمحمد علی رند کی دعوت پر پہلی دفعہ1991ء میں تربت آیا مرحوم میرمحمد علی رند کی علاقہ کیلئے گراں قدر خدمات ہیں، انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے قائدین آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو زرداری نے مرحوم میرمحمد علی رند کی پہلی برسی پر خراج عقیدت کاپیغام بھیجا ہے انہوں نے مرحوم کی فرزندان میرعبدالرؤف رند اورمیر زبیر رند اور رند فیملی کی طرف سے بھرپور اندازمیں تعزیتی پروگرام کے اور انہیں شرکت کی دعوت پر ان کا شکریہ اداکیا۔نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاکہ آج کے اس تعزیتی اجتماع میں تمام سیاسی جماعتوں اورمختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کی شرکت مرحوم میر محمد علی رند کی مہر ومحبت کا ثمر ہے جو انہیں اپنے عوام کے ساتھ تھی،مرحوم میرمحمد علی رند سیاست میں رواداری، بردباری اوربرداشت کے پیکر تھے انہوں نے کبھی بھی الیکشن کو دشمنی کو رنگ نہیں دیا، وہ ہارے یاجیتے مگر ان کی پیشانی پر کوئی شکن نہیں آیا، وہ اقتدار میں رہے یا اپوزیشن میں ان کے ساتھ تعلقات برادرانہ ومشفقانہ رہے، وہ بردباری اور سخاوت میں اپنی ذات میں یکتاتھے انہوں نے امید ظاہرکی کہ مرحوم کے فرزندان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ مرحوم میر محمد علی رند کے فرزند، پاکستان پیپلزپارٹی کے سنیئر رہنما میر عبدالرؤف رند نے اپنے خطاب میں برسی کے جلسہ میں میر صاحب کے کاروان کے ساتھیوں اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں وکارکنان کی تاریخی شرکت پر شرکاء کاتہہ دل سے شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی صدرمیر چنگیز خان جمالی، سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹرمالک بلوچ،سردار عمران بنگلزئی، لالہ رشیددشتی، میر حمل کلمتی، میر اسلم بلیدی، میر غفور بزنجو، میر قاسم دشتی،پیپلزپارٹی، انجمن تاجران سمیت اکابرین ورہنماؤں کی شرکت ہمارے حوصلوں کومزید بلندکرنے کاباعث بنیں گے جبکہ بی این پی عوامی کے قائدمیر اسرار اللہ زہری نے اپنا خصوصی نمائندہ بھیجاہے، یہ میر صاحب کی شخصیت کاکمال ہے کہ آج یہ پنڈال ایک سیاسی گلدستہ کی شکل اختیارکرچکاہے انہوں نے کہاکہ میر صاحب کسی سیاسی امتیاز کے بغیر اپنے غریب عوام کی خدمت کے قائل تھے انہوں نے ہمیں ہمیشہ غریب دوستی کا درس دیا، انہوں نے کہاکہ 27فروری میری زندگی کا ایک انتہائی تاریک دن ہے میر صاحب کے مشن کو ایک چیلنج سمجھ کر اسے آگے بڑھانے کیلئے ہم ہرممکن حدتک اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم اس مشن میں ہمیں اس وقت حقیقی کامیابی ملے گی جب عوام کا ساتھ اورتعاون ہمیں حاصل ہو۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سابق صوبائی وزیرمیر اصغررند نے کہاکہ میر صاحب عزم وہمت کے چٹان تھے مشکل سے مشکل حالات میں بھی وہ گھبرائے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھتے، ان کی ڈکشنری میں ”نا“ کالفظ نہیں تھا، میر صاحب مہمان نوازی، ہمراہ داری، جرات اوربلوچی روایات کے امین تھے ان کے نقش قدم پر چلنے کی ہرممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ رکن صوبائی اسمبلی اوربی این پی کے مرکزی رہنمامیر حمل کلمتی نے کہاکہ میر محمد علی رند کی سیاست عوام کی سیاست تھی وہ ایسے لوگوں کے بھی کام کرتے تھے جنہیں وہ جانتے تک نہ تھے ان کے دروازے ہروقت کھلے رہتے وہ اپنے عوام سے مہر ومحبت اور خلوص رکھتے تھے۔ صوبائی مشیر پی ایچ ای لالا رشیددشتی نے کہاکہ مکران کو میرمحمد علی رند جیسے قدآور سیاسی وعوامی لیڈرکی ضرورت ہے آج ہرشخص ان کی کمی شدت سے محسوس کرتاہے وہ غیرمتنازعہ شخصیت تھے وہ ہرقسم کی تنقید اورمخالفت کا خندہ پیشانی سے سامنا کرتے۔ سابق صوبائی وزیر وسابق سینیٹر میراسلم بلیدی نے کہاکہ میرصاحب انتہائی خیر اندیش اور صلح جو شخصیت تھے جہاں کہیں کوئی جھگڑا یاتنازعہ ہوتا تو وہ پہلا شخص ہوتے جو صلح کیلئے کوشاں رہتے انہوں نے مرحوم میرمحمد علی رند کو خراج عقیدت پیش کی۔ پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی سنیئرنائب صدرمیر غفور احمدبزنجو نے کہاکہ ہم 1997ء سے میر صاحب کے قریبی ساتھی رہے ہیں غریب دوستی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا ان کی شخصیت انسانیت کاپیکر اوربغض وعناد سے پاک تھی۔ سردار عمران بنگلزئی نے کہاکہ مرحوم میرمحمد علی رند محض ایک سیاست دان نہیں تھے بلکہ وہ ایک عوامی شخصیت، صلح جو اورامن پسند لیڈرتھے، وہ صرف اپنے خاندان کے سربراہ نہیں تھے بلکہ مکران اوربلوچستان کوجوڑنے والے تھے۔ معتبر حاجی برکت رند نے کہاکہ ہم سیاست میں میر صاحب کے پیداوار ہیں ہم نے کبھی بھی انہیں کسی پر غصہ کرتے یا جذباتی ہوتے نہیں دیکھا بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ پیار کے ساتھ پیش آتے۔ میر صاحبداد رند نے کہاکہ میرمحمد علی رند بلاامتیاز خدمت کا قائل تھے وہ ذات پات اور سیاسی امتیاز سے بالاتر تھے یہی ان کی کامیابی کا رازہے، انہوں نے اس امرپر مسرت کااظہارکیاکہ میر صاحب کے فرزند ان کے خلاء کوپرکررہے ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی مکران ڈویڑن کے نائب صدر نواب شمبے زئی نے کہاکہ میر صاحب نے اس دورمیں بھی سیاسی طورپر پختہ اور دوراندیش انداز میں اپنی جدوجہد جاری رکھی جب یہاں ایک جذباتی ماحول تھی مگر میر صاحب اس جذباتی ماحول سے متاثرہوئے بغیر ایک پختہ سیاست کارکی طرح عوام کی خدمت کے مشن سے جڑے رہے۔ تعزیتی پروگرام سے حاجی محمدنور، کہدہ عزیز دشتی نے بھی خطاب کیاجبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض نورمحسن اور سراج بیبگر نے سرانجام دئیے۔تعزیتی پروگرام کے دوران معروف پینٹر شریف قاضی نے اسٹیج پر جاکر میرمحمد علی رند کی پینٹنگ ان کے فرزند میر عبدالرؤف رند کو پیش کی۔تعزیتی جلسہ کا آغاز نامور عالم دین مولانا محمد الیاس دلاوری نے تلاوت قرآن پاک سے کیا جبکہ جلسہ کے اختتام پر مولانا محمد الیاس دلاوری نے میر صاحب کی مغفرت اوربلندی درجات کیلئے خصوصی دعاکی۔ تعزیتی جلسہ میں مرحوم کے فرزند میر زبیر رند، حاجی میر عبدالرسول بلوچ، میر ہوتمان بلوچ، شے موسیٰ بلوچ، پی ٹی آئی کے رہنما وارث دشتی، میر انوربلیدی، ناکو نیاز کیازئی، میر قاسم دشتی، قاضی نور احمد، واجہ محمد خان بلوچ، میر جاوید رند، حاجی قدیر احمد بلوچ، میر ساجد اسحاق دشتی، میر ماجد اسحاق دشتی، میرمرادجان گچکی، حاجی انور دشتی، میر حمل رند دشتی، حافظ ناصرالدین زامرانی، معتبر خلیل رند، میر آصف علی رند، میر زاہد بھائیان رند، میر خلیل تگرانی، احد الہٰی، یوسف فریادی، میر عارف دشتی سمیت رند فیملی سے تعلق رکھنے والے شخصیات، گوادر، پسنی، اورماڑہ، مند، تمپ، بلیدہ زامران، تربت، ہوشاپ، کولواہ ودیگر علاقوں سے سیاسی وسماجی شخصیات نے ایک بڑی تعدادمیں شرکت کی، تعزیتی جلسہ کے اختتام پر شرکاء کیلئے ظہرانہ کااہتمام کیاگیا۔
مرحوم میرمحمد علی رند واحد سیاسی لیڈر ہیں جنہیں خواص کے بجائے عام لوگوں میں زیادہ مقبولیت اورپزیرائی حاصل ہے،ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ

ٹیگز:
ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ
