سوات (ڈیلی گرین گوادر) حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ نیکی کا فروغ اور برائی سے ممانعت مسلم خواتین کا دینی فریضہ ہے ، اس مقصد کو اجتماعیت کی شکل دینے کا نام جماعت اسلامی ہے- جماعت اسلامی نے خواتین کو یہ شعور دیا ہے کہ معاشرے میں حق و انصاف کی بالا دستی متوازن معاشرے کے لیے اہم ترین ہے- ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات کی ارکان، امیدواران اور کارکنان کے ایک تنظیمی و تربیتی اجتماع مدرسہ سے خطاب کے دوران کیا-. ڈاکٹر حمیرا طارق نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی خواتین اگرچہ معاشرے میں تناسب کے اعتبار سے آٹے میں نمک کے برابر ہیں، مگر ان کا کردار اصلاحِ معاشرہ میں نہایت مؤثر اور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کارکنان اپنے وقت کو مفید اور مثبت سرگرمیوں میں صرف کریں، سوشل میڈیا کو اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بنائیں، اور دعوت کے میدان میں اپنے خاندان کو ساتھ لے کر چلیں تاکہ ایک مثبت اور دیرپا تبدیلی لائی جا سکے۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب بندہ اللہ کا ہے، زمین اللہ کی ہے تو پھر اس پر نظام بھی اللہ ہی کا نافذ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ساری جدوجہد کا مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کا قیام ہے، اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم مکمل اخلاص اور جذبے سے اس مشن میں شامل ہوں۔کیا-۔اجتماع میں ضلع سوات کی سطح پر تنظیمی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کی دعوتی و فلاحی حکمت عملی پر غور کیا گیا- اجتماع میں سابق رکن قومی اسمبلی عائشہ سید، ضلعی ناظمہ حسنیٰ حفیظ، زاہدہ کرم، سعدیہ حیدر اور کلثوم وقار سمیت دیگر ضلعی قائدین نے بھی شرکت کی۔اجتماع کا اختتام کارکنان کی تربیتی عزم، دعوت و اصلاح کے مشن میں نئے جوش و جذبے اور امید کے ساتھ ہوا
اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کا نفاذ ہی ہماری سعی و جہد کا حاصل ہے : ڈاکٹر حمیرا طارق

ٹیگز:
ڈاکٹر حمیرا طارق
