کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں قلات میں دہشتگردی کے واقعہ کے خلاف مذمتی جبکہ صوبے کے ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل کے لئے کمیٹی کے قیام کی قراردادیں منظور کرلیں، ایوان نے بلوچستان زرعی آمدن، اور بلوچستان سول سرونٹس کے قوانین میں ترامیم منظور کرلیں۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پیر کو ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی زیر صدارت آدھے گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس میں وفقہ سوالات کے دوران محکمہ پی ایچ ای اور محکمہ کھیل سے متعلق سوالات نمٹا دئیے گئے۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برکت علی رند نے چیئر مین مجلس قائمہ برمحکمہ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے بلوچستان ٹیکس آن لینڈ اینڈ ایگریکلچرل انکم کے ترمیمی سودہ قانون سے متعلق رپورٹ پیش کی جس کے بعد صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے کمیٹی کی سفارشات کے بموجب بلوچستان ٹیکس آن لینڈ اینڈ ایگریکلچرل انکم کے ترمیمی سودہ قانون ایوان میں پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ اس موقع پر رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے قانون منظور کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سامراجی قانون ہے۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برکت علی رند نے چیئر مین مجلس قائمہ برمحکمہ خزانہ کی جانب سے بلوچستان سول سرونٹس کی ترمیمی مسودہ قانون سے متعلق کمیٹی کی رپور ٹ پیش کی بعدازاں صوبائی وزیر میر شعیب نوشیروانی نے بلوچستان سول سرونٹس کا ترمیمی مسودہ قانون پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر نور محمد دمڑنے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان کے لوگوں کی اکثریت کا ذریعہ معاش شعبہ ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہے بلوچستان کے ٹرک جب صوبہ پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہیں توانہیں پنجاب کی تمام چیک پوسٹوں پرخصوصا ًبواٹہ سے لیکر ڈیرہ غازی خان تک کسٹم اور پنجاب پولیس کی چیک پوسٹوں پر بہت سخت تنگ کیا جارہا ہے اورانہیں چیکنگ کے نام پربلاوجہ گھنٹوں کھڑا کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے صوبہ بلوچستان سے ملکر کے دیگر علاقوں کو سپلائی ہونے والے فروٹ،سبزیاں اورکوئلہ وغیرہ منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے خراب ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹرک مالکان اور ڈرائیوروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اکثر ٹرانسپورٹرز نے کسٹم اور پنجاب پولیس کی بلاوجہ رکاوٹوں اورسختیوں کی وجہ سے اپنے ٹرک گھروں میں کھڑے کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے صوبے میں بے روزگاری کی شرح مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے لہذا صوبہ کے ٹرانسپورٹرز کی مشکلات کو مد نظررکھتے ہوئے یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ حکومتی اوراپوزیشن اراکین اسمبلی پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے کہ وہ یہ معاملہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے ساتھ اٹھائے تاکہ اس مسئلے کا کوئی قابل قبول حل نکالا جاسکے۔قرار داد پر بات کرتے ہوئے ارکان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن، پارلیمانی سیکرٹری میر لیاقت علی لہڑی نے کہا کہ پنجاب کے ساتھ ساتھ سندھ میں بلوچستان کے ٹرانسپورٹز کو مسائل درپیش ہیں بلوچستان کے اندر حب میں بھی کئی کئی گھنٹوں گاڑیوں کو روکا جاتا ہے اور بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔بعدازاں ایوان نے قرار داد منظور کرلی۔اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے بی اے پی کی رکن فرح عظیم شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے ہمیشہ میرٹ کی بات کی ہے انکے وژن کو آگے لیکر جانے کے لئے میدان میں اتری ہوں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کامسئلہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے صوبے کا مسئلہ معاشی ہے لوگ نظام سے مایوس ہو گئے ہیں ہمیں ان میں امید دوبارہ جگانی ہوگی۔ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ اسمبلی کی تشکیل کو ایک سال ہوگیا ہے کیا ہم ہر وقت سوالات، پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک سال میں نہ محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا نہ ہی امن وامان کی صورتحال پر بات کی گئی ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو عوام کی بہتری کے لئے ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایوان میں صحت، تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت کے نظام کا اثر نچلی سطح پر عوام کو نہیں پہنچ رہاہسپتالوں کو نیم خودمختا ر کریں۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبے کو ملنے والے محکموں کے قوانین نہیں بنائے گئے ان پر توجہ دی جائے۔ جس پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی رائے سے متفق ہوں بلوچستان اسمبلی صوبے کا سپریم ادارہ ہے ہمیں عوام نے منتخب کر کے اس ایوان میں بھیجا ہے ایوان کو قوانین کے تحت چلانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم پر ایوان میں بات ہونی چاہیے جبکہ آئندہ ہفتے امن وامان پر بھی ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ صوبے میں جاری شورش اور علیحدیگی کی تحریک کے محرکات اور ان کا حل تلاش کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں 18ویں ترمیم کے بعد قانون سازی کے معاملے پر خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس کا سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو بنانے کی سفارش کرتا ہوں کمیٹی قوانین بنا کر قانون سازی کرے۔اجلاس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلید ی نے ایوان کی مشترکہ مذمتی قرار داد پیش کرنے کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ بعدازاں میر ظہور بلیدی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قلات میں ملک دشمن دہشتگردوں نے قانون نافذ کرنے والے 18اہلکاروں کو شہید کیا جس کی یہ ایوان مذمت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر بلوچستان میں بد امنی پھیلا کر ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو ایسی کاروائیوں سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ملک دشمن عناصر کو ان کے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایوان شہداء کے درجات کی بلندء اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء کرنے کی دعا کرتا ہے۔قرارداد کی موضونیت پر بات کرتے ہوئے میر ظہور بلیدی نے کہا کہ قلات اور تربت میں دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے دہشتگردوں نے بلوچستان میں ساڑھے چار ہزار شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کو شہید کیا ہے ملک دشمن ایجنسیاں یہاں کے حالات خراب کرنا چاہتی ہیں ہم انکے مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم کنفیوز ہونے کے بجائے یکجا ہو کر حکمت عملی مرتب کریں اور صوبے کو دہشتگرد ی سے پا ک کریں۔ وزیراعلیٰ کی مشیر مینہ مجید نے کہا کہ فوج کے خلاف جلسوں میں نفر ت انگیر تقاریر اور ہر فور م پر ریاستی اداروں کے خلاف بولنے والے نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلود کر رہے ہیں۔ہم ان عناصر سے پوچھتے ہیں کہ عوام کاتحفظ کون کر رہا ہے وقت آگیا ہے ہم دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہوں۔حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ قوم، مذہب پرستی سمیت ہر قسم کے قتل کی مذمت کرتے ہیں میں آئین اور پارلیمنٹ کو مانتا ہوں مگر ایک ریاسی ادارے کے اہلکار نے میرے گھر میں گھس کر میری والدہ کے لئے نازیبا الفاظ اداکئے ہمیں اسباب جاننے ہونگے کہ نوجوان کیوں اس راستے پر چل رہے ہیں ریاستی ادارے آج کے حالات کے ذمہ دار ہیں جب تک رویہ تبدیل نہیں ہوتا حالات بہتر نہیں ہونگے۔سی پیک کی بات ہوتی ہے لیکن صوبے میں سی پیک کہاں ہے بتایا جائے۔ آزاد رکن مولوی نور اللہ نے کہا کہ اگر سی پیک کے خلاف سازش ہورہی ہے تو دہشتگردی کے واقعات پنجاب میں کیوں نہیں ہوتے کیوں بلوچستان اور خیبر پختونخواء ہی بد امنی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں مصنوعی بی ایل اے اور ٹی ٹی پی بنائی گئی ہیں۔ایوان نے قرار داد کو منظور کرلیا۔بعدازاں ڈپٹی اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس6جنوری تک کے لئے ملتوی کردیا۔
ہرروز لاشیں اٹھائیں یہ سلسلہ کب تک چلے گا،ہم سب کو دہشت گردی کے خلاف یکجا ہونا ہوگا،میر ظہور بلیدی

ٹیگز:
میر ظہور بلیدی
